وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ،چیئرمین سینیٹ نے ناراض ارکان کو منالیا

88

کوئٹہ (آن لائن )بلوچستان میں سیاسی طوفان 15دن کے لیے تھم گیا ،وزیراعلیٰ جام کمال اوربلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض ارکان کے درمیان 15دن کاتحریری معاہدہ ہوگیا ،اپوزیشن وزیراعلیٰ کے مستعفی ہونے کے لیے پر امید انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض ارکان اور وزیراعلیٰ جام کمال کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو ختم کرنے میں مصالحتی کمیٹی کسی حد تک کامیاب ہوگئی ،ناراض ارکان اور وزیراعلیٰ جام کمال خان کے درمیان تحریری معاہدہ طے پاگیا ۔حکومتی ذرائع کے مطابق معاہدے میں 15روز کے دوران تمام ناراض ارکان کے تحفظات کا خاتمہ کیاجائے گا ۔ارکان کے حلقوں میں ترقیاتی اسکیموں کاآغاز کرتے ہوئے غیر منتخب نمائندگان کو فنڈز کااجرا روکاجائے گاجبکہ رکن صوبائی اسمبلی سردارصالح بھوتانی کو ان کی وزارت بھی واپس لوٹا دی جائے گی ۔ذرائع کے مطابق معاہدے میں اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان حکومتی اورپارٹی کے امور میں پارلیمانی گروپ کو اعتماد میں لے کر فیصلے کریں گے اور اگر 15روز میں ان تحفظات کا خاتمہ نہیں ہوا تو وزیراعلیٰ کی تبدیلی سمیت دیگر امور کاازسرنو جائزہ لیاجائیگا تاہم دوسری جانب اپوزیشن ذرائع کاکہناہے کہ ناراض ارکان اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے مابین15روزہ معاہدے میں یہ شرط واضح ہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال 15روز بعدازخودوزارت اعلیٰ سے مستعفی ہوجائیںگے ۔اس وقت بلوچستان کی سیاسی صورتحال میں پیدا ہونے والے بونچھال پر کسی حد تک چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور مصالحتی کمیٹی کامیاب نظرآرہی ہے ۔دوسری جانب متحدہ اپوزیشن کی جانب سے ایک بار پھر گزشتہ روز مشترکہ مشاورتی اجلاس بلایاگیا جس میں عدم اعتماد کی تحریک اور نئے معاہدے سے متعلق امور کاجائزہ لیاگیاہے ۔حکومتی ارکان کی جانب سے معاہدے طے پانے پر مسرت کااظہار کیاگیاہے۔