کورونا کی آڑ میں تعلیم و تجارت کا بیڑہ غرق کیا جارہا ہے،ہارون میمن

56

سکھر (نمائندہ جسارت) آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے بانی و قائد حاجی محمد ہارون میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ تعلیم اور تجارت کی دشمن بنی ہوئی ہے کورونا کی آڑ میں تعلیم و تجارت کا بیڑا غرق کیا جارہا ہے اگر کورونا کی وجہ سے حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں تو حکومت پورے صوبہ سندھ کو آفت زدہ قرار دیکر تمام ٹیکس ختم، بجلی گیس ٹیلیفون پانی سمیت ہر قسم کے یوٹیلیٹی بلز معاف کیے جائیں اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تو یہ سب لاک ڈائون جبری اور ظالمانہ نوٹیفکیشن صرف اور صرف عوام اور تاجروں کو بلاجواز پریشان کرنے کے مترادف ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائشگاہ پر پرائیویٹ اسکولز کے مالکان تاجروں ملازم پیشہ افراد اور مزدوروں کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ لاک ڈائون جبر کے ساتھ لگوا سکتی ہے، دکانیں زبردستی بند کروا سکتی ہے مگر سکھر شہر میں لوٹ مار کرنے والے ڈاکوئوں، چوروں، لٹیروں رہزنوں کو نہیں پکڑ سکتی۔ پولیس شریف شہریوں، محب وطن تاجروں اور عام شہریوں کے لیے ظلم و ستم کے ساتھ کام کرتی ہے مگر تاجروں، دکانداروں اور شہریوں سے لوٹ مار کرنے والے ڈاکوئوں کو گرفتار نہیں کرسکتی یہ وزیر اعلیٰ سندھ کو بتانا ہوگا کہ وہ صوبے میں کونسا آئین دستور چلا رہے ہیں، عوام لٹ رہے ہیں، ڈاکو آزاد گھوم رہے ہیں اور حکومت لاک ڈائون کے ذریعے عوام میں خوف و ہراس پھیلا رہی ہے۔ انہوں نے صدر وزیر اعلیٰ، چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا کہ حکومت سندھ کی ظالمانہ پالیسیوں اور این سی او سی کے فیصلوں کیخلاف اقدامات کرنے کا نوٹس لے اگر حکومت سندھ کو اتنا ہی خیال ہے تو بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے سندھ میں صفائی ستھرائی کا نظام درست کیا جائے۔ خود سرکاری محکموں میں ایس او پیز پر عمل کرایا جائے۔