قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

97

یہ لوگ کہتے ہیں’’ کیا واقعی ہم پلٹا کرپھر واپس لائے جائیں گے؟ کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے؟‘‘ کہنے لگے’’ یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہو گی‘‘۔ حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکا یک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے۔ (سورۂ نازعات( مکی) آیات10تا14)
(جمعہ کی اشاعت میں آیات ایک تا9کا ترجمہ شائع ہوا ہے )

سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جنت کے احاطے میں اس شخص کے لیے گھر کا ذمے دار ہوں جس نے حق پر ہونے کے باوجود لڑائی جھگڑے سے اجتناب کیا اور میں اس کے لیے جنت کے پیچوں پیچ گھر کا ضامن ہوں جس نے بطور مزاح بھی جھوٹ کا ارتکاب نہ کیا ہو اور میں جنت کی بلندی پر اس شخص کے لیے گھر کا ذمے دار ہوں جس نے اچھے اخلاق کو اختیار کیا۔
(سنن ابو داؤد)