قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

137

اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے۔ درحقیقت جہنم ایک گھات ہے۔ سرکشوں کا ٹھکانا۔ جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔ اْس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے۔ کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون۔ (اْن کے کرتوتوں) کا بھرپور بدلہ۔ وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے۔ اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھٹلا دیا تھا۔ اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گن گن کر لکھ رکھی تھی۔ اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے۔ یقینا متقیوں کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے۔(سورۃ النباء:20تا31)

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ’’تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی، آدمی اپنے اہل پر نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگران ہے، اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی، خادم اپنے آقا کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پرسش ہوگی، ابن شہاب نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ شاید یہ بھی کہا کہ مرد اپنے باپ کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا، اور تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی‘‘۔ (بخاری)