طالبان فوبیا

245

 

طالبان اِس بار ماضی کے برعکس دوراندیشی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ جوںجوںاُن کی فتح کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے، اُن کا مستقبل کی حکمرانی کا پروگرام سامنے آرہا ہے کہ وہ کس طرح کی حکومت قائم کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ خبررساں ادارے اے پی کو دیے گئے ایک اہم انٹرویو میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے مستقبل کا لائحہ عمل بیان کرتے ہوئے کئی اہم بنیادی باتوںکا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ’’جب افغان تنازعے میں شامل تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول مذاکرات کے ذریعے نئی حکومت قائم ہوگی اور اشرف غنی کی حکومت چلی جائے گی تو طالبان ہتھیار ڈال دیں گے۔‘‘ اِس وقت تک طالبان تیزی سے افغانستان کے وسیع و عریض علاقے پر قبضہ حاصل کرچکے ہیں، جن میں تزویراتی (Strategic)اہمیت کے حامل علاقے بھی شامل ہیں، جب کہ متعدد صوبائی دارالحکومت ان کے محاصرے میں ہیں۔ امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا 95 فیصد سے زیادہ مکمل ہوچکا ہے، اور 31 اگست 2021ء تک ممکنہ طور پر تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی۔رواں ہفتے امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی نے پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ طالبان کے پاس ’’اسٹرے ٹیجک رفتار‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے افغانستان پر طالبان کے مکمل قبضے کے امکان کو مسترد نہیں کیا، لیکن ساتھ ہی امریکا اپنی ناکامی کے بعد ابہام پھیلانے اور گمراہ کرنے سے باز نہیں آرہا ہے، اسی لیے امریکی فوج کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’افغانستان پر طالبان کا قبضہ اٹل نہیں ہے۔ مجھے نہیں لگتا اس کے حتمی انجام کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم ہے‘‘۔ وہ بار بار ماضی کے افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے کہہ رہے ہیںکہ تقریباً 25 سال قبل طالبان نے اقتدار میں آکر ملک میں اسلامی قوانین سختی سے نافذ کردیے تھے۔ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے اور بدامنی کے خوف کے باعث ہزاروں افراد افغانستان سے نکلنے کے لیے ویزوں کی درخواستیں دے رہے ہیں۔ اس پر طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہم اقتدار کی اجارہ داری پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ ماضی میں افغانستان میں اقتدار پر اجارہ داری قائم کرنے والی حکومتیں کامیاب حکومتیں نہیں تھیں۔ لہٰذا ہم اس فارمولے کو دہرانا نہیں چاہتے۔‘‘ امریکا سے واپسی کے بعدپاکستان میں بلاول بھٹو بھی امریکی زبان میں کہہ رہے ہیںکہ ہمیںافغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت نہیں چاہیے۔ ان سب کا مسئلہ واضح ہے، وہ یہ کہ یہ لوگ طالبان کو کسی صورت میں قبول نہیں کرنا چاہتے۔ جب کہ طالبان ان کے جھوٹ کے خلاف بار بار وضاحت کررہے ہیں کہ ان کی نئی حکومت کے تحت خواتین کو کام کرنے، تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے اور سیاست میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی، تاہم انہیں حجاب یا سر پر اسکارف پہننا پڑے گا۔ ظاہر ہے اس سے کون مسلمان انکاری ہوسکتا ہے! اور یہ عین اسلام بھی ہے۔ سہیل شاہین نے میڈیا سے گفتگو میں یہاں تک کہا ہے کہ ہم نے طالبان کمانڈروں کو حکم دیا ہے کہ یونیورسٹیوں، اسکولوں اور بازاروں میں پہلے کی طرح کام جاری رکھا جائے جس میں خواتین اور لڑکیوں کی شرکت بھی شامل ہے۔ ابھی بھی جہاںطالبان کا کنٹرول ہے وہاں اسکولوں میں طالبات تعلیم حاصل کررہی ہیں، اسکول کھلے ہیں، کاروبارِ زندگی چل رہا ہے۔ طالبان بار بار ہرمغرب نواز پروپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے دور میںخواتین کو گھر سے نکلنے کے لیے کسی محرم کی ضرورت نہیں ہوگی۔ امریکا نے خوف زدہ افغانیوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکی افواج کے ہزاروں حامیوں کو بھی افغانستان سے منتقل کرے گا۔ اس پر بھی سہیل شاہین نے کہا کہ انہیں طالبان سے ڈرنا نہیں چاہیے، تاہم اگر کچھ لوگ مغرب میں سیاسی پناہ لینا چاہتے ہیں کیونکہ افغانستان کی معیشت بہت خراب ہے، تو یہ ان پر منحصر ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ طالبان نے صحافیوں اور افغانستان کی سول سوسائٹی کو دھمکی دی ہے۔ امریکا، مغرب اور ان کے ایجنٹ کئی حوالوں سے پروپیگنڈا کررہے ہیں جو صحافیوں کے حوالے سے بھی ہے، جس پر طالبان نے واضح کیا ہے کہ ’’صحافیوں بشمول مغربی ذرائع ابلاغ کے اداروں میں کام کرنے والے افراد کو ایسی حکومت سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں جس میں طالبان بھی شامل ہوں‘‘۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ہم نے صحافیوں کو وارننگ جاری نہیں کی، خاص طور پر وہ لوگ جو غیر ملکی میڈیا اداروں کے لیے کام کررہے ہیں وہ مستقبل میں بھی اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ طالبان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’میدانِ جنگ میں زیادہ تر کامیابی ہمیں لڑائی سے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے حاصل ہوئی ہے۔ وہ اضلاع جو ہمارے پاس آچکے ہیں اور فوجی دستے جو ہمارے ساتھ شامل ہوچکے ہیں، وہ بات چیت کے ذریعے ہی آئے ہیں، لڑائی کے ذریعے نہیں، لڑائی سے ہمیں صرف 8 ہفتوں میں 194 اضلاع حاصل کرنے میں بہت مشکل ہوتی۔‘‘ لیکن حیرت ہے کہ دنیا اس حقیقت کودیکھنے اور سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس سے ایک ہی بات ثابت ہوتی ہے کہ عالمی مافیا ایک بار پھر طالبان کی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اور اس وقت مغرب اور مغرب زدہ لوگ طالبان فوبیا کا شکار ہیں، اور یہ لوگ مستقل جھوٹ، پروپیگنڈے اور بے بنیاد باتوں کے ذریعے طالبان کو ظالم بناکر پیش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ صورتِ حال ماضی میں بھی تھی، اور آج بھی بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا جاری ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوچکا ہے۔ ہمیں امریکی نوالوں پر جینے والے دانشور یہ نہیں بتاتے کہ امریکا اور اُس کے اتحادیوں نے جس قدرخون افغانستان میں بہایا ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، اور اب امریکا کی مسلط کردہ جنگ اور دہشت گردی سے افغانستان باہر آرہا ہے تو تواتر سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ وہاں خانہ جنگی شروع ہونے والی ہے، جب کہ وہاں بدترین صورتِ حال امریکا کی موجود گی میں رہی ہے۔ اور رہی بات طالبان کی حکمرانی کی، تو وہ اپنی بہترین حکمرانی پہلے بھی ثابت کرچکے ہیں، اور سب جانتے ہیںکہ طالبان کے اقتدار کا 5 سالہ دور افغانستان کا سب سے پُرامن دور تھا۔ حقیقی اور سچی بات یہی ہے کہ طالبان نے ماضی میں اپنی ذہانت اور بہترین صلاحیتوں سے افغانستان کو ایک پُرامن ملک بنایا جس میں لوگ قانون پر عمل کرتے تھے۔ طالبان اور اسلامو فوبیا کا شکار ایک جتھہ ماضی کی باتوںکا بہت پروپیگنڈا کرتا ہے،لیکن یہ نہیں بتاتا کہ اُس دور میں لوگ اپنی دکانیں کھلی چھوڑ کر نمازیں مسجد میں ادا کرنے جاتے تھے۔ وہاںامریکا بھی پوست کی کاشت کو نہیں روک سکا اور نہ روکنا چاہتا تھا کیونکہ وہ عالمی ڈرگ کے کاروبار کا سرپرست ہے۔ افغانستان جو دنیا کی 97فیصد پوست کاشت کرتا تھا جس سے افیون نکالی جاتی تھی، طالبان کی حکومت میں وہاں اس کی کاشت مکمل طور پر روک دی گئی تھی۔ اِس وقت طالبان اسلام کے حقیقی ماڈل کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔کچھ وہ عملی طور پر کرکے دکھا رہے ہیں اور مستقبل میں کس طرح کی حکمرانی افغانستان میں کرنا چاہتے ہیں وہ بھی دنیا کو بار بار بتا رہے ہیں۔ وہ عورت، تعلیم اور ان سے متعلقہ امریکہ اور یورپ کے پروپیگنڈے کے برعکس اسلام کی حقیقی روح کے مطابق درست سمت میں گامزن ہیں۔ اس وقت طالبان سے خوف زدہ صرف وہ لوگ ہیں جو اسلام کو بطور نظام نہیں دیکھنا چاہتے، اور وہاں کے عوام کی خواہش کے برعکس افغانستان کو سیکولر، لبرل نظام کے تحت لانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن قائم نہ ہو اور خانہ جنگی جاری رہے۔ عالمی طاقتیں جو اس خطے کے لیے بڑا منصوبہ رکھتی ہیں، چاہتی ہیں کہ افغانستان میںکوئی مضبوط حکومت نہ بن پائے تاکہ ان کے گھنائونے عزائم اور مقاصد کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ جبکہ طالبان ان کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں