قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

77

 

کس روز کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا ہے؟۔ فیصلے کے روز کے لیے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے؟۔ تباہی ہے اْس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟۔ پھر اْنہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے۔ مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ تباہی ہے اْس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا۔ اور ایک مقررہ مدت تک،۔ اْسے ایک محفوظ جگہ ٹھیرائے رکھا؟۔ (سورۃ المرسلات:12تا22)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے تین جمعے محض سستی کی وجہ سے، ان کو ہلکی چیز سمجھتے ہوئے چھوڑ دیے، اللہ تعالیٰ اس کے دِل پر مہر لگادیں گے۔‘‘(مشکوٰۃ)
ایک اور حدیث میں ہے: ’’لوگوں کو جمعوں کے چھوڑنے سے باز آجانا چاہیے، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دِلوں پر مہر کردیں گے، پھر وہ غافل لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ)