فلسطین اور بے حس مسلم حکمران

286

اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر مسلمانوں کو زخمی کردیا۔ غزہ پر بمباری کردی، پاکستان نے مذمت کردی۔ ترکی نے دہشت گردی قرار دے دیا۔ عالمی اداروں نے تشویش ظاہر کردی۔ اسرائیلی فوج نے پھر حملہ کردیا۔ اگلے دن پھر حملہ کردیا اپنے غنڈے بھیج دیے۔ دنیا نے اجلاس بلالیا اور بس… نہیں بس نہیں بلکہ اب دنیا نے اسرائیل کو فلسطین مسجد اقصیٰ اور فلسطینی علاقوں پر تسلط کا سرٹیفکیٹ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مغرب سے کیا شکوہ وہ تو صہیونیت کو غلط سمجھنے کے باوجود اس کے وجود کو قبول کرنے کو تیار ہے۔ شکوہ اور تکلیف تو مسلمانوں سے ہے۔ اربوں کھربوں ڈالر کے وسائل رکھنے والے، اسلحہ کے ڈھیر جمع کرنے والے عیاشی کے اڈے بنانے والے مسلمان حکمران، ان کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ وہ آج کے بنی اسرائیل بنے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ فلسطینیو جائو تم اور تمہارا خدا لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ اپنے محلوں میں، اپنے پرتعیش مکانوں میں… لیکن کب تک… اس کا وہ انتظار کریں۔ عربوں نے کہہ دیا ہے کہ فلسیطنی امریکی یہودی معاہدوں کی پاسداری کریں اور خاموش رہیں۔کئی دوسرے مسلم ممالک نے محض لب کشائی کی ہے ترکی نے ذرا زور دار آواز کے ساتھ احتجاج کیا ہے، اس کا پورا نیٹ ورک کام کرتا ہے، اپنے صدر کی ویڈیو کلپ بنا کر دنیا بھر کے مسلمان ملکوں خصوصاً پاکستان کو بھیجی جاتی ہیں ہم سب یہ سمجھتے ہیں کہ بہت زبردست… لیکن کچھ بھی زبردست نہیں ہے۔ اکیلے ترکی کی طاقت اتنی ہے کہ اسرائیل کو چند گھنٹوں میں گھٹنوں کے بل پر لاسکتا ہے۔ تین چار عرب ممالک پیسے کے بل پر اسرائیل کا ناطقہ بند کرسکتے ہیں۔ مصر اور سعودی عرب کی افواج اسرائیل کے لیے کافی ہیں۔ ایران مل جائے تو کیا کہنے۔ لیکن ذرا غور سے دیکھا جائے، یہ ایک قوالی کی شکل ہے ہر ایک اپنا مصرعہ الاپ رہا ہے کوئی اجتماعی فیصلہ اور ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ اب اقوام متحدہ اور او آئی سی کے اجلاس ہوں گے لیکن ان اجلاسوں سے بھی کوئی خیر برآمد نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ عرب ممالک تو اسرائیل سے تعلقات قائم کررہے ہیں۔ سفارت کاری کررہے ہیں، تجارت کررہے ہیں، انہیں فلسطینیوں اور قبلہ اوّل سے کیا غرض۔ ان عالمی اداروں کے اجلاسوں سے خیر کے بجائے ایک اور شر برآمد ہونے کے خدشات ہیں۔ وہ یہ کہ دنیا مسئلہ فلسطین کے حل کے بجائے فلسطین میں کشیدگی کم کرنے کی بات کرے گی، آپس کی لڑائی سے بچنے کے مشورے دے گی۔ مذاکرات کی بات کرے گی اور مذاکرات کس بات پر… ناجائز ریاست اسرائیل کے تمام مطالبات تسلیم کرنے پر مذاکرات… پھر اجلاسوں کی کامیابی کا اعلان ہوگا۔ اسرائیل کی ہلکی سی مذمت کردی جائے گی اور بس۔ برسہا برس سے یہی ہوتا آرہا ہے، صہیونیوں کے قدم آگے ہی بڑھتے جارہے ہیں، ان کے قبضوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بسیتوں کی بستیاں ہڑپ کرگئے ہیں لیکن جب بھی مذاکرات ہوتے ہیں کشیدگی کم کروانے کے لیے ہوتے ہیں۔ مسئلہ فلسطین حل کروانے کے لیے نہیں۔ یہاں ذکر تو فلسطین کا ہے لیکن جہاں کہیں مسلمان کا معاملہ آتا ہے وہاں ایشو تبدیل کردیا جاتا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے کہا ہے کہ سعودی عرب پاک بھارت کشیدگی کم کرانے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کیوں ہے۔ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں کشیدگی کیوں ہے۔ ان مسائل کا منصفانہ حل نکالا جائے۔ کشیدگی کم کرنے پر سب کے اتفاق کو عالمی اداروں کی کامیابی قرار دے کر خود ہی بغلیں بجائی جاتی ہیں۔ مسلم دنیا کے بے حس حکمران یہ بات جانتے بھی ہیں کہ مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ دو مرتبہ اپنے سخت جان بندے بھیج چکا ہے تو کوئی بعید نہیں کہ اسی دنیا سے کچھ لوگ اُٹھیں اور صہیونیوں کو فلسطین سے نکال دیں۔ لیکن یہ سوچیں یہ حکمران کہاں کھڑے ہوں گے۔ انہیں تو بہرحال اپنے انجام کو پہنچنا ہی ہے۔ امت مسلمہ اب ایسے مرحلے پر آچکی ہے کہ اگر امت کے خیر خواہ خود کوئی قدم اٹھائیں تو اسرائیلی سرحد پر پہنچنے سے پہلے یا پہنچتے ہی انہیں اسرائیلی فوج کی گولی سے پہلے اپنے کسی مسلم ملک کے فوجی کی گولی لگے گی۔ فلسطین کے علما نے جو مطالبہ کیا ہے کہ امت مسلمہ اپنی مشترکہ فوج تیار کرکے اور اسرائیل کے خلاف میدان میں اتار دے۔ تو یہ فوج تو تیار ہے لیکن یہ فلسطین کے تحفظ کے لیے نہیں یہ القدس کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ القدس کی آزادی کے لیے کوشش کرنے والوں کے خلاف بنائی گئی ہے۔ 34 ملکوں کی فوج خطے میں موجود ہے۔ چند گھنٹوں میں اسرائیل کو گھیرا جاسکتا ہے لیکن ان مسلمان حکمرانوں سے اس کی امید نہیں، یہ تو یہی کہتے رہیں گے کہ جائو تم اور تمہارا خدا لڑو… اور ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو ایسا کہنے والوں کا ہوا تھا۔ حال ہی میں دنیا نے بے سروسامان طالبان کی کامیابی دیکھی ہے تو اسرائیل کی کیا اوقات اللہ کے فیصلے کے سامنے ٹھیر سکے۔ بس امت مسلمہ کے ایک ایک فرد کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔ اس کا دل فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے یا ڈالروں اور ریالوں کے ساتھ ہے۔ اسی پر انجام ہوگا، مسجد اقصیٰ کا مستقبل وہی ہوگا جو اللہ نے طے کر رکھا ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ لمبی لمبی تقریروں اور ایاک نعبدکہنے سے فلسطین و کشمیر آزاد ہونے والے ہوتے تو برسوں پہلے یہ کام ہوچکا ہوتا۔ اب چوتھی انتفاضہ ہی ان سب کا دماغ درست کرے گی اور فلسطینیوں کے مقبول نعرے خیبر خیبر یا یہود جیش محمد سوف یعود کی صدا دلوں کو گرمانے لگی ہے۔ یہ جیش خود بنے گا خود نکلے گا اور دنیا دیکھے گی۔ یہ سامراج کے ایجنٹ منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔