حدیبیہ پیپر ملز کا مردہ گھوڑا

202

یہ پی ٹی آئی کی حکومت کو کیا ہوا ہے۔ اچانک حدیبیہ پیپرز مل کا کیس نئے سرے سے کھولنے اور نئی تفتیش کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس کیس میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ بھی آچکا ہے۔ اس کے بارے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مردہ گھوڑا ہے جتنے چابک ماریں کوئی فرق نہیں پڑے گا یہ مردہ گھوڑا مردہ ہی رہے گا۔ اور حکومت بھی اچھی طرح جانتی ہے، اس معاملے پر اخبارات، ٹی وی چینلز دانشور جو اچھل اچھل کر بحث کریں گے وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ مردہ گھوڑا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی حکومت ناکامی کی بدترین گہرائی میں گر چکی ہے اسے اپنے خلاف عوام کے غصے سے بچنے کے لیے ہر مہینے نیا ڈراما چاہیے ایک بار پھر وہ پچھلے چوروں کی چوری کا ٹیب ریکارڈر آن کرکے کچھ دن گزار لیں گے۔ پھر مقدمے بنیں گے، گرفتاریاں ہوں گی، پیشیاں ہوں گی، عدالت ضمانت دے گی تو اسے نواز شریف کا جج قرار دیا جائے گا۔ ورنہ باقاعدہ مہم چلے گی۔ وزیراعظم عمران خان صاحب حدیبیہ پیپر ملز کے کیس کو چھوڑیں عوام کو ریلیف دیں، چینی، آٹا اور اب مرغی بھی غائب۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مرغی کی قیمتیں بڑھانے والوں کے ساتھ چینی مافیا جیسا سلوک کریں گے۔ یہ سن کر قوم 8 سو روپے کلو مرغی کا گوشت خریدنے کے لیے تیار ہوجائے۔ اس اعلان کے بعد ایک دن میں مرغی کے گوشت کی قیمت 80 روپے کلو بڑھ گئی ہے۔ اگلے دو دن میں 580 روپے سے قیمت ہزار تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ حدیبیہ پیپرز اور دوسرے گڑے مردے اکھاڑ کر عوام کو دھوکا دینا بند کریں مسائل حل کریں ورنہ گھر جائیں۔