بھارت : لاک ڈائون کے باعث مزدور پھر رل گئے

134
بھارت: مزدور عورتیں اور بچے پیدل ہی آبائی علاقے کی جانب گامزن ہیں‘ قطاروں میں بیٹھے ہنرمند امداد کے منتظر ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں لاک ڈاؤن کے باعث ایک بار پھر مہاجر مزدور گھر واپسی کے لیے پریشان ہیں۔ بڑے شہروں کے بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروں کا ازدحام ہے۔ بھارت میں کورونا کی دوسری لہر کے سبب کئی شہروں میں لاک ڈاؤن جیسی بندشوں کے نفاذ کے ساتھ ہی مہاجر مزدور ایک بار پھر اپنے آبائی علاقوں کی طرف کوچ کرنے لگے ہیں۔ دارالحکومت دہلی میں حکام نے پیر کے روز جیسے ہی ایک ہفتے کے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا، مہاجر مزدوروں کی ایک بڑی تعداد اپنے گھروں کی جانب روانہ ہونے کے لیے بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں کی جانب جوق در جوق نکل پڑی۔ ان میں سے بیشتر افراد کا تعلق ریاست یوپی، بہار اور جھار کھنڈ سے ہے، جو لاک ڈاؤن کے دوران ایک بار پھر ذریعہ معاش کے چلے جانے کے خوف سے اپنے آبائی علاقوں کی جانب لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اس کا سب سے زیادہ اثر صنعتی شہر ممبئی میں دیکھنے کو ملا تھا جہاں 15 روز کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ ممبئی میں اب بھی ہزاروں مزدور ریل کے ذریعے اپنی گھر واپسی کی کوشش میں ہیں، تاہم ٹرینیں کم ہونے کی وجہ سے ریلوے اسٹیشنوں پر زبردست بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ مزید بھیڑ جمع ہونے سے روکنے کے لیے بہت سے اسٹیشن پر حکام نے مزید ایسے افراد کا داخلہ بھی ممنوع کر دیا ہے، جس سے مزدوروں کی بے چینی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے موقع پر جب صنعتی شعبے میں پھر سے بہتری ہونا شروع ہوئی تھی، ان مزدوروں کے چلے جانے سے صنعتیں بری طرح متاثر ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ حکام مہاجر مزدوروں کو یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ انہیں اپنے گھر واپس جانے کی ضرورت نہیں ہے اور ان کا خیال رکھا جائے گا۔ تاہم پیر کے روز ہی سے دہلی کے بیشتر بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر زبردست بھیڑ ہے۔ انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی لاک ڈاؤن کی میعاد اگر بڑھ گئی تو بے روزگاری کے سبب وہ برباد ہو جائیں گے۔