ڈسکہ ضمنی الیکشن میں حکومتی امیدوار کو شکست کا سامنا

314

ڈسکہ کے حلقہ این اے 75 میں دوبارہ ضمنی انتخابات کے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق حکومتی امیدوار کو شکست کا سامنا ہےجبکہ مسلم لیگ ن کی امیداور نوشین افتخارنے ہزاروں ووٹوں سے میدان مارلیا۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار1لاکھ 11ہزار2سو20ووٹ لے کر آگے رہیں جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی نے 92ہزار19 ووٹ حاصل کیے ہیں۔

ڈسکہ کے حلقہ این اے 75 کے الیکشن کے اب تک حاصل ہونے والے غیر سرکاری نتائج میں ن لیگ کی امیدوار نے 10ہزار ووٹ کی برتری سے جیتنے کا دعوی کیا ہے۔

دوسری جانب  پی ٹی آئی کے امیدوار نے الیکشن کے نتائج قبول کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم 360پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق علی اسجد ملہی دوسرے نمبر پر ہیں۔

خیال رہے کہ این اے 75 میں مسلم لیگ (ن) کی نوشین افتخار اور پاکستان تحریک انصاف علی اسجد ملہی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تھا جبکہ تحریک لبیک پاکستان کے خلیل بھی امیدوار تھے۔

ڈسکہ میں سکیورٹی کے خاص انتظامات کیے گئے تھے، پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر تعینات کیا گیاتھا، پاک فوج کے اہلکار بھی ڈسکہ اسٹیڈیم میں موجودتھے، جنہیں ضرورت پڑنے پر طلب کیا جا سکتا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر خود صوبائی دفتر پنجاب میں بیٹھ کر الیکشن کی مانیٹرنگ کر رہے تھے، پولنگ کا عمل صبح 8بجے سے 5 بجے تک بغیر کسی وقفے تک جاری رہا۔

واضح رہے کہ این اے 75 میں 360 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے ،سکیورٹی اداروں نے 47 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس جبکہ 176 کو حساس قرار دیا ہے۔ 137 پولنگ اسٹیشنز سی کیٹگری میں شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ڈسکہ این اے 75 کی نشست (ن) لیگ کے افتخارالحسن کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی، جس کے بعد گزشتہ ماہ بھی ضمنی انتخابات کرائے گئے تھے جس میں تحریک انصاف کے امیدوار نے میدان مارلیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے نتائج کوکالعدم قراردیا تھا ، جس کے بعد آج دوبارہ الیکشن کرائے گئیں ہیں۔