متنازع نئی مردم شماری

137

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا، 4 گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کا اہم ایجنڈا مردم شماری کے نتائج کا اعلان تھا۔ اجلاس میں مردم شماری کے نتائج کے اعلان پر اتفاق نہیں ہوسکا اس لیے فیصلہ پیر تک موخر کردیا گیا۔ مردم شماری کے نتائج کا حکم نامہ جاری نہ ہونے کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات اور ان کی حد بندیوں کا فیصلہ بھی نہیں ہوسکا ہے۔ مردم شماری کے نتائج متنازع ہوچکے ہیں، سندھ اور بلوچستان کو مردم شماری کے نتائج سے اتفاق نہیں ہے۔ خاص طور پر کراچی میں تمام سیاسی جماعتوں نے مردم شماری کو مسترد کردیا ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی حقوق کراچی کے حوالے سے جو مہم چلا رہی ہے، اس کا مرکزی نکتہ متنازع مردم شماری ہے۔ شماریات کے ماہرین نے بھی مردم شماری کے نتائج مسترد کردیے ہیں، اس کے دستاویزی شواہد بھی سامنے آچکے ہیں لیکن موجودہ حکومت پوری کوشش کررہی ہے کہ متنازع مردم شماری کے نتائج کو قبول کرلیا جائے۔ اعداد و شمار غلط ہوں گے تو ساری چیزیں غلط ہوجائیں گی۔ وزیراعظم ہر مسئلہ پر تحقیقی کمیشن بناتے ہیں، انہیں اس مسئلے پر بھی ایک تحقیقی کمیشن بنانا چاہیے جو یہ جائزہ لے کہ کس نے آبادی کے اعداد و شمار میں گھپلا کیا ہے۔ جس قوم کے قائدین جان بوجھ کر حقائق کو مسخ کریں جس کی مثال متنازع مردم شماری ہے وہ اپنے آپ کو بھی دھوکا دیتے ہیں جس کے نتائج کبھی اچھے نہیں نکل سکتے۔