سیاست کی رسوائی

200

نیت صاف نہ ہو تو نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔ حزب اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کا انتشار اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ماضی میں حکمران رہنے والی جماعتوں نے اکثر چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر آواز بلند کی تھی کہ سیاست میں غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے گا۔ جب کہ حکومت کا الزام یہ تھا کہ بدعنوانی اور کرپشن میں مبتلا یہ جماعتیں احتساب سے بچنا چاہتی ہیں۔ وقت نے یہ ثابت کیا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں بھی محض سودے بازی کرنا چاہتی تھیں اور نہ حکومت اور اداروں کی نیت یہ ہے کہ حقیقی معنوں میں احتساب کیا جائے۔ اس وقت تو حزب اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کے انتشار کا تماشا لگا ہوا ہے۔ پی ڈی ایم کی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام عاید کر رہی ہیں۔ پی ڈی ایم کی قیادت نے دو جماعتوں پی پی پی اور اے این پی پر بدعہدی کے الزام میں شوکاز نوٹس جاری کیا تو اے این پی نے اسے کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی اور صاف الزام لگایا کہ کچھ جماعتیں اپنے مقاصد کے لیے اتحاد کو استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ یہ کہہ کر پی ڈی ایم سے علاحدگی کا اعلان کر دیا۔ پی پی پی نے بھی سخت جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ منظر نامہ غیر متوقع نہیں ہے۔ اس لیے کہ سیاست اصول اور نظریات سے بے پروا ہو کر طاقت، منصب اور اقتدار کی جنگ کا نام بن گئی ہے۔ اقتدار کی اس جنگ کی کوئی اخلاقیات نہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں یعنی نواز لیگ اور پیپلز پارٹی، شخصی اور خاندانی جماعتیں ہیں اور یہ جماعتیں صرف شخصی اور خاندانی مفادات کے تحفظ کے لیے بروئے کار آتی ہیں۔ اس صورت حال میں سیاست رسوا نہیں ہوگی تو اور کیا ہوگا؟