قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

91

اْن کا رویہ تو یہ ہے کہ اگر تم پر قابو پا جائیں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں اور ہاتھ اور زبان سے تمہیں آزار دیں وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہو جاؤ۔ قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں کسی کام آئیں گی نہ تمہاری اولاد اْس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا، اور و ہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔ (سورۃ الممتحنۃ:2تا3)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کے دل میں خوشی داخل کرنا سب سے افضل عمل ہے خواہ اس کی ستر پوشی کرنے کے لیے کپڑے پہنائے یا اس کی بھوک رفع کرنے کے لیے اسے شکم سیر کر دے یا اس کی کوئی اور حاجت پوری کر دے۔ (الترغیب والترہیب)