پی سی بی کی قانونی حیثیت سے متعلق درخواست پر جواب جمع کرانے کا حکم

52

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی قانونی حیثیت سے متعلق درخواست پروزارت بین الصوبائی رابطہ کو آئندہ سماعت تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی سی بی کو 1962ء سے ایک آرڈیننس کے ذریعے غیرقانونی طور پر چلایا جارہا ہے، چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور سی ای او وسیم خان کی تقرری بھی غیرقانونی ہے، پی سی بی کے وکیل کا عدالت میں کہنا تھا کہ بیرسٹر سلمان نے تمام مدعا علیہان کی طرف سے جواب جمع کرایا ہے، احسان مانی اور دیگر فریقین نے بیرسٹر سلمان کو اتھارٹی لیٹر دیا ہے،عدالت نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کو آئندہ سماعت تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا، درخواست گزار کا موقف ہے کہ اسپورٹس ڈویلپمنٹ اینڈ کنٹرول آرڈیننس 1962ء کی کسی اسمبلی نے توثیق نہیں کی،پارلیمان نے 1962ء اور 1973ء میں بھی آرڈیننس کو آئین کا حصہ نہیں بنایا،قانون سازی کے بغیر پی سی بی کا آئین بنادیا گیا جو غیر قانونی ہے،چیئرمین پی سی بی کیلیے ممبر بورڈ آف گورنرز ہونا ضروری ہے،احسان مانی بورڈ آف گورنرز کے ممبر نہیں تھے انہیں چیئرمین بنادیا گیا،سی ای او کے تقرر کا اختیار بورڈ آف گورنرز کے پاس ہے،سی ای او وسیم خان کو غیرقانونی طور پر بورڈ آف گورنرز بھی بنا دیا گیا۔