شمالی وزیرستان میں 4 خواتین کے قتل پر ایوان میں بحث

151

جے یو آئی کے رکن زاہد اکرم درانی نےشمالی وزیرستان میں 4 خواتین کی ہلاکت کا معاملہ پارلیمان میں اٹھادیا۔

زاہد اکرم درانی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے حلقے کی 4 خواتین کو میران شاہ میں شہید کردیا گیا  لوگ گلہ کررہے ہیں کہ کیا ہم پاکستانی نہیں، بدقسمتی سے وہ لوگ بنوں سے تھے،کہیں اورکےہوتے تومسئلہ ہائی لائٹ ہوتا۔

زاہد اکرم درانی نے کہا کہ پورا بنوں خون کے آنسو رو رہا ہے، غریب خواتین تھیں جو ظلم بنوں کے عوام پر ہوا ہے، قابل افسوس ہے، وزیراعظم کو اس معاملے پر نوٹس لینا چاہیے، شہدا پیکج دینا چاہیےجب کہ وزیراعلیٰ کے پی  کو بھی معاملے کی انکوائری کرنی چاہیے اس ملک میں کچھ دنوں کی تحقیقات ہوتی ہیں پھر معاملہ دب جاتا ہے،  یہی وجہ ہے آئے روز ہم لاشیں اٹھاتے ہیں یہ وہی ضلع بنوں ہے جہاں سے وزیراعظم نے خود الیکشن لڑا تھا، وفاقی اور صوبائی سطح پر کسی نے لواحقین سے اظہار ہمدردی نہیں کی۔

مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ ہم ان واقعات کی مذمت کرتے ہیں، وزیرستان میں کچھ ایسی جگہ ہے جہاں ہم جا نہیں سکتے،  قبائلی علاقے کے لوگوں نے بہت قربانیاں دی ہیں۔

محسن داوڑ نے کہا کہ بنوں سمیت دیگر علاقوں میں ایک مرتبہ پھر دہشت گرد منظم ہورہے ہیں، ایسا نہ ہو کہ پھر پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں آجائے۔

ن لیگ اورپیپلزپارٹی کا بھی قبائلی علاقوں کی صورتحال کو ایوان میں زیربحث لانےکامطالبہ کیا۔ وزیرمملکت علی محمد خان نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعات ہیں، اس کی مذمت کرتے ہیں ان واقعات کا نوٹس لیا گیا ہے، معاملہ داخلہ کمیٹی کو بھجوایا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست کے ساتھ عوام نے قربانیاں دی ہیں۔

اسپیکر نے خواتین کے قتل اورشہریوں کے اغوا کا معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا۔