اسٹیبلشمنٹ جتنی سیاست سے دور رہے گی، اتنی ہی باوقار رہے گی، سینیٹر سراج الحق

194

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ جتنی سیاست سے دور رہے گی، اتنی ہی باوقار رہے گی، اعلیٰ عدالتوں سے توقع ہےکہ نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر کے قوم کی امنگوں کی ترجمانی کریں گی،الیکشن ریفارمز کے بغیر پائیدار جمہوریت کے قیام کی منزل حاصل نہیں کی جاسکتی، پیسے اور طاقت کے زور پر الیکشن کے عمل کو ہائی جیک کرلیا جاتاہے، 26 فروری کو بہاولپور کی تاریخ کا بڑا جلسہ کریں گے ، آنے والا دور شہزادے ، شہزادیوں کا نہیں ، بلکہ ان کا ہے جن کا جینا اور مرنا ملک و قوم کے لیے ہے ۔۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرا ت کو منصورہ میں شجر کاری مہم کے افتتاح کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سراج الحق نے گراﺅنڈ میں پودا لگا کر شجر کاری مہم کا آغاز کیا اور ملک بھر میں جماعت اسلامی کے کارکنوں اور خیر خواہوں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ موسم بہار کے دوران کم از کم ایک پودا ضرور لگائیں ۔انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے ہر شخص پودا لگائے اور سیاسی سموگ سے جان چھڑانے کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دے ۔

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں جنگلات کا تیزی سے خاتمہ ہورہاہے اور پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں جنگلات ختم ہورہے ہیں،انہو ں نے ٹمبر مافیا کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں قومی مجرم قرار دیا،پی ٹی آئی کا بلین ٹری منصوبہ گراﺅنڈ پر نہیں ، بلکہ کاغذوں میں نظر آتاہے ۔

سینیٹر سراج الحق نے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران وزیراعظم کے اس بیان پر کہ مودی سے بار بار رابطہ کیا مگر جواب نہیں ملا، پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم نے بیرون ملک جا کر بھارت کے حوالے سے انتہائی کمزور موقف اپنایا ،کشمیر کی آزادی کے لیے نئی دہلی سرکار کے سامنے مضبوط موقف اپنانا ہوگا،کشمیر پر نیشنل ایکشن پلان کی تیاری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔

امیر جماعت نے چیف جسٹس کی جانب سے سینیٹ الیکشن سے متعلق ریفرنس کی سماعت کے دوران دیے گئے ریمارکس کا خیر مقدم کیا اور کہاکہ اس سے عدالت کے وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ چار حلقوں میں ضمنی انتخابات کے دوران دھونس ، دھاندلی اور خونریزی کے واقعات سے الیکشن کمیشن کی صلاحیت پر سوال کھڑا ہو گیاہے۔

سیاسی جماعتوں کو آپس میں الیکشن ریفارمز پر مذاکرات کرنے چاہئیں ۔ آزاد اور بااختیار الیکشن کمیشن کی تشکیل نہ ہوئی تو آنے والے عام انتخابات میں حالات کس طرح کے ہوں گے اس کا اندازہ حالیہ واقعات سے لگایا جاسکتا ہے۔

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جب الیکشن میں دھونس دھاندلی طاقت اور دولت کا کلچر ختم ہوگا تو جماعت اسلامی کو ضرور ملک و قوم کی خدمت کا موقع ملے گا ۔ انہوں نے کہاکہ قوم موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کی پالیسیوں سے تنگ آچکی ہے ۔

سینیٹ الیکشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے سینیٹ کے لیے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں ،ہماری خواہش ہو گی کہ ممبران اسمبلی ایماندار اور باصلاحیت لوگوں کو ووٹ دیں۔ انہوں نے کہا کہ بہاوپور جلسے کے دوران جماعت اسلامی آئندہ کا لائحہ عمل دے گی،قوم سے اپیل کی کہ موسم بہار کے دوران زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں تاکہ آلودگی کا خاتمہ اور ملک کا مستقبل محفوظ ہو۔