حیدرآباد :گھروں کو مسمار کرنے کیخلاف مکینوں کا احتجاج

31

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی طورپر گھروں کو مسمار کیے جانے کے خلاف مختلف گوٹھوںاور علااقوں سے تعلق رکھنے والے عوام نے شہباز بلڈنگ اور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔داد محمد بروہی، بابو عالمانی، ودیگر کی قیادت میں ریلی نکالی جو قاسم آباد سے ہوتی ہوئی شہباز بلڈنگ اور پھر پریس کلب پہنچی۔ اس موقع پر مقررین نے گوٹھ مسمار کیے جانے کے خلاف ایریگیشن سمیت دیگر محکمے کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری خالی زمین پر70برس سے رہائش پذیر ہیں ،کچی آبادیوں کی بنیاد پر سہولتیں دینے کے بجائے مہنگائی کے اس دور میں بے گھر کیاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ بھٹو سمیت اب تک آنے والے تمام حکمرانون نے گھر کا وعدہ کیا مگر وفانہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ عدالت کی جانب سے کچی آبادیوںکو مستقل کرنے کے حکم پر عمل درآمد کرنے کے بجائے انہیں ناجائز قبضہ قرار دے کر بے گھر کیاجارہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت سندھ کی ناقص پالیسی کے باعث آج سندھ کے باشندے اپنے صوبے میں بے گھر ہیں جبکہ وفاقی حکومت غیر مقامی افراد کو سندھ میں آباد کرنے کے لیے سندھ کی خالی پڑی ہوئی زمینون کی تفصیلات طلب کررہی ہے۔ انہوں نے سابق صدر آصف زرداری، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری سمیت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے اپیل کی کہ وہ سندھ کی سرکاری زمین پر مقامی رہائشی افراد کو مالکانہ حقوق دییں اور انصاف فراہم کریں۔