مہران شوگر مل کے جبری برطرف ملازم کی خودکشی کی کوشش

15

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد میں مہران شوگر مل کے جبری برطرف کیے گئے دل کے مریض مزدور نے نوکری پر بحالی کے لیے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی، جس کو موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے پکڑ کر گولیاں چھین کر بچالیا۔ اس موقع پر متاثرہ شخص مہتاب علی نوحانی نے کہا کہ کئی روز سے معصوم بچوں کے ہمراہ احتجاج کررہا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے والد کے انتقال کے بعد فوتی کوٹے پر مہران شوگر مل ٹنڈو محمد خان میں دس سال قبل بھرتی ہوا اور نوکری ایمانداری سے کررہا تھا کہ دل کے مرض کی وجہ سے دو روز کی چھٹی کی جس کے واپس شوگر مل گیا تو منیجر را¶ محمد شبیر نے کہا کہ تم نوکری چھوڑ دو میں تمھیں پانچ لاکھ روپے پنشن دینے کے لیے تیار ہوں، جس سے میں نے انکار کردیا جس کے بعد مجھے زبانی طور پر نوکری سے برطرف کردیا گیا۔ ایک ماہ بعد نوکری سے نکالنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ انہوں نے کہا کہ نوکری نہ ہونے کے باعث معصوم بچے بھوک کا شکار ہیں جبکہ میں بیمار ہوں، اس عمل کیخلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے لیکن انصاف نہ ملنے پر دلبرداشتہ ہوکر میں خودکشی کی کوشش کی، پریشان ہوں، انصاف فراہم کیا جائے، نوکری پر بحال کیا جائے، کینٹ پولیس کے اہلکار مزدور مہتاب کو اپنے ہمراہ لے گئے۔