قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

103

جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا۔ تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا۔ وہ تہ و بالا کر دینے والی آفت ہوگی۔ زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی۔ اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے۔ کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔ تم لوگ اْس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔ دائیں بازو والے، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا۔ اور بائیں بازو والے، تو بائیں بازو والوں (کی بد نصیبی کا) کا کیا ٹھکانا۔ (سورۃ الواقعۃ:1تا9)

سیدنا ابن عباسؓسے بیان کیا کہ رسول اللہؐ نے فرمایا میری امت کے ستر ہزار لوگ بے حساب جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے نہ شگون لیتے ہیں اور اپنے ربّ ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ (بخاری)
سیدنا ابوذرؓ سے مروی ہے کہ: رسول ؐ نے فرمایا: ’’حکومت امانت ہے، اگر اس کا صحیح طور پر حق ادا نہ کیا گیا تو یہ قیامت کے دن رسوائی اور شرمندگی کا باعث ہو گی‘‘۔ (صحیح مسلم)