جرمن اسکول اورنگی کی کروڑوں روپے کی اراضی پر قبضے کی کوشش، علاقے میں اشتعال

48

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) جرمن اسکول اورنگی ٹاؤن سیکٹر 16 گلشن بہار پر پی ڈی اورنگی رضوان اور دیگر حکام کی سرپرستی میں قبضے کی کوشش‘ علاقے میں شدید اشتعال ، امن وامان کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ لینڈ ڈپارٹمنٹ ضلع غربی اور پولیس تماشائی بن گئے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے حکم امتناع کے باوجود اورنگی ٹاؤن سیکٹر 16 کے سب سے بڑے اسکول جرمن (نارویجن) اور اس سے متصل گراؤنڈ پر قبضے کی تیاری کرلی گئی ہے، لینڈ مافیا نے مارکنگ کرکے کھدائی شروع کردی جبکہ تعمیرات کے لیے بلاک ، ریتی اور سیمنٹ پہنچا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ اسکول تقریباً 48 سال سے قائم ہے اور 1992 سے حالات کے باعث بند ہوگیا تھا جس کے بعد سے اس کی اربوں روپے کی اراضی پر قبضہ مافیا لینڈ ڈپارٹمنٹ کی آشیرباد سے نظریں گاڑ رکھی ہیں۔ مذکورہ اراضی پر غیر قانونی تعمیرات اور قبضے کیخلاف درخواست دہندہ شکیل احمد، ممتاز حسین انصاری اور حفیظ الرحمن کی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے کیس نمبرD 25,15/2017پر 4 جولائی 2017، 25اکتوبر 2017 اور 27جون 2017کو حکم امتناع دے رکھا ہے اور تاحکم ثانی ہر قسم کی تعمیرات پر پابندی عاید کر رکھی ہے۔ جبکہ پی ڈی اورنگی رضوان نے جرمن اسکول کی اراضی پر 600گز کے دو پلاٹ لیز کرکے دیے تھے جس پر عدالت کے وضاحت طلب کرنے پر پی ڈی اورنگی رضوان نے کہا تھا کہ یہ لیز دھوکا دے کر لی گئی اور عدالت کو اسے کینسل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم 2 سال سے زاید عرصہ گزرنے کے باوجود اس لیز کو کینسل نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ اراضی کی مالیت کروڑوں روپے ہے ۔ اس حوالے سے جسارت نے پی ڈی اورنگی ٹاؤن رضوان سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے فون کال اٹینڈ نہیں کی ہے۔