ترکی: بغاوت کرنے پر 92 مجرمان بشمول فوجی افسران کو عمر قید کی سزا

226

ترکی کی سرکاری عدالت نے 2016 میں حکومت کا تختہ الٹنے کے کوشش کرنے کے جرم میں 92 افراد جن میں فوجی افسران بھی شامل ہیں، کو عمر قید کی سزا سنادی ہے۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق ترکی کی ایک عدالت نے سابق فوجی عہدیداروں سمیت 92 باغیوں کو عمر قید کی سزا سنادی ہے۔

15 جولائی 2016 کو حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ متعدد فوجیوں نے جنگی طیاروں ، ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کی کمان اور اہم ریاستی اداروں کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی تھی۔

92 مجرمان میں سے 12 کو ناقابلِ ضمانت عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جن میں لینڈ فورس کے کچھ محکموں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔

گذشتہ ماہ عدالت نے بغاوت کے الزام میں متعدد رہنماؤں کو قید کی الگ الگ  سزا سنائی تھی جن پر امریکہ میں مقیم مسلم مبلغ فیت اللہ گلین کے حامی ہونے کا الزام تھا تاہم فیت اللہ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔

اناڈولو نیوز ایجنسی نے وزیر داخلہ سلیمان سویلو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گولن تحریک سے رابطوں پر تقریبا 292،000 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے تقریبا 100،000 افراد کے مقدمے سماعت کیلئے زیر التوا ہیں۔

واضح رہے کہ بغاوت کی کوشش کے بعد تقریبا ڈیڑھ لاکھ سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف یا معطل کردیا گیا ہے جبکہ عدالتوں نے اب تک 2500 سے زائد افراد کو عمر قید کی سزا سنا چکی ہے اور 20،833 افراد کو فوج سے بے دخل کردیا گیا ہے۔