حیدرآباد:رات کی شادی پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

73
HYDERABAD, PAKISTAN, DEC 02: Members of Marriage Halls Association are holding protest demonstration against closure of marriage halls, outside Shahbaz Building in Hyderabad on Wednesday, December 2, 2020. (Sajjad Zaidi/PPI Images).

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد میں شادی ہالز مالکان ایسوسی ایشن کی جانب سے رات کے اوقات میں شادی کی تقریبا ت پر پابندی کے خلاف شہباز بلڈنگ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔اس موقع پر جمال عارف سہروردی‘ شکیل خانزادہ ودیگر نے کہاکہ کورونا کی آڑ میں رات کے اوقات میں شادی ہال بندنے کرنے کا مقصد شادی ہالز مالکان کو نقصان پہنچانے اور ہزاروں افراد کا روزگار تباہ کرنے کی سازش ہے ۔انہوںنے کہاکہ رات کے اوقات میں شادی کی تقریب پر پابندی سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور بے روز گار ہوجائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ شادی ہالز سب سے زیادہ ایس او پیز پر عمل درآمد کررہے ہیں، مقررہ وقت کی پابندی بھی کی جاری ہے اور جن ہالز سے انتظامیہ کو شکایت ملی انہوںنے سیل بھی کیا، اس کے باوجود بلا جواز رات کی شادی پا بندی لگانے کا مقصد صرف روز گار تباہ کرنا اور حیدرآبادکے عوام سے زیادتی ہے۔ ہال مالکان نے کمشنر حیدرآباد سے مطالبہ کیاکہ فوری طور پر رات کے اوقات میں شادی پرلگائی جانے والی پابندی ہٹائی جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیاجائے گا ۔مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور دھرنا دے کر شاہراہ بلاک کردی۔علاوہ ازیںشادی ہال مالکان ایسوسی ایشن کی جانب سے سخت احتجاج کے بعد کمشنر حیدرآباد نے انڈور شادی تقریبات پر پابندی کی تاریخ میں توسیع کر دی۔ کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ کی جانب سے ضلع انتظامیہ کی درخواست پر ترمیم شدہ انتظامی حکم نامہ جاری کر دیا گیا جس کے مطابق اب انڈور شادیوں پر پابندی کا اطلاق یکم دسمبر کے بجائے 13دسمبر 2020 سے ہوگا۔