بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی طور پر با اختیار بنایا جائے،یونس قائم خانی

92

ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی ٹنڈوالٰہیار کے ضلعی جنر ل سیکرٹری محمد یونس قائم خانی نے نیشنل پر یس کلب کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہو ئے صوبہ میں بروقت شفاف بلدیاتی انتخابات اوربلدیاتی اداروں کو مالی وانتظامی طورپربااختیار بنانے کامطالبہ کیا کہ بے اختیاروڈمی نمائندوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے،جس طرح مہذب ملکوں میں شہری حکومتوں کو بااختیار کیا جاتا ہے سندھ میں بھی کراچی تا کشمورمقامی حکومتوں کو مکمل اختیار دیے جائیں تا کہ بنیادی جمہوریت کاجو تصور ہے وہ عملاًنظر بھی آئے ۔عدالتی احکامات کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی اور عوام کے بنیادی حقوق پرڈاکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے بلدیاتی اداروں کی مدت کئی ماہ سے پوری ہوچکی ہے۔مگر سندھ حکومت کی عدم دلچسپی اور عدم توجہ سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات کرانا نہیں چاہتی، بلدیاتی اداروں کو عوامی نمائندوں کے بجائے سرکاری ملازمین کے ذریعے چلانا چاہتے ہیں لوکل گورنمنٹ گراس روٹ لیول کی حکومت ہوتی ہے صوبے میں میں بنیادی جمہوریت ہی کا نہ ہونا جمہوریت اور عوام سے مذاق ہے اس لیے فوری طور پر بلدیاتی الیکشن کا اہتمام و انتظام کیا جائے۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ سند ھ میں لاقانونیت، بے امنی اور بالائی سندھ میں قبائلی فساد کے سبب عام آدمی شدید پریشان اور مضطرب ہے شہریوں کو امن اوران کی جان واملاک کو تحفظ دینا حکومت کا بنیادی فرض ہے مگر سندھ حکومت اپنے بنیادی فرض سے غافل نظر آتی ہے جس کے باعث آئے رو ز بے امنی اور لاقانونیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمور میں مظلوم بچی اور اس کی ماں سے زیادتی افسوناک اور شرمناک عمل تھا جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے بچی کی بازیابی پر کشمور پولیس خاص طوراے ایس آئی اور ان کے اہل خانہ کا کردار قابل فخر اور قابل تحسین ہے مظلوم بچی کا سرکاری خرچ پربہتر علاج کرایا جائے اور ان کی تعلیم و تربیت کاانتظام بھی حکومت کو کرنا چاہیے۔ بچی کی بازیابی پرقابل تحسین کردار ادا کرنے والے اے ایس آئی اور ان کی بیٹی کو ستارہ جرأت سے نوازا جائے بالائی سندھ سے قبائلی فساد بڑھتا جارہا ہے جس کے سبب آئے روز بے گناہ لوگ قتل کیے جاتے ہیں جو انتہائی افسوس ناک اور شرمناک عمل ہے اس فساد کے خاتمے کے لیے سند ھ حکومت کی خاموشی بھی قابل مذمت ہے۔ اپر سندھ میں جاری قبائلی فساد کو روکنے کے لیے خصوصی قانون سازی کی جائے اورقانون شکنی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ کسی بے گناہ کا خون نہ بہے۔ سندھ میں امن و امان کے حالات بھی قابل تشویش ہیں۔