قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

146

اے نبیؐ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اْس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے اْنہیں ہم نے اِس طرح ہلاک کر دیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا۔ بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف و صریح ہدایت پر ہو، وہ اْن لوگوں کی طرح ہو جائے جن کے لیے اْن کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو بن گئے ہیں؟۔ (سورۃ محمد:13تا14)
نبی کریم ؐنے فرمایا: جس نے اپنے سارے غموں کو آخرت کا غم بنا لیا، تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے ہر غم کے لیے کافی ہے، اور جو دنیاوی معاملات کے غموں اور پریشانیوں میں الجھا رہا، تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوتا ہے۔ (ابن ماجہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بندہ اپنے ربّ سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ حالت سجدہ میں ہو پس سجدے کی حالت میں کثرت سے دعا کیا کرو۔ (مسلم، ابو داؤد)