بھارت میں کورونا متاثرین کی تعداد 90 لاکھ سے تجاوز کر گئی

86

نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے اسپتال بھرنے لگے اور قبرستانوں میں جگہ کم پڑگئی ہے جبکہ  بھارت میں جمعے کو کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 90 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

تفصیلات  کے مطابق دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں دوسرے نمبر پر موجود انڈیا میں اب تک 1 لاکھ 32 ہزار افراد اس عالمی وبا سے ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ  دارالحکومت دہلی میں کورونا متاثرین کی تعداد 5 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

گزشتہ روز نئے کیسز میں بے انتہا اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور دہلی کی ریاستی حکومت نے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ماسک نہ پہننے پر جرمانے (2000 روپے) کی رقم میں چار گنا اضافہ کیا تھا جبکہ  سب سے بڑے قبرستان میں مردوں کی تدفین کے لیے جگہ کم پڑ گئی ہے۔

قبرستان کے گورکن کا کہنا ہے کہ مردوں کی تدفین کے لیے جگہ تیزی سے کم  ہو رہی ہے،  شروع میں جب وائرس پھیلنا شروع ہوا تو مجھے لگا میں 100 سے 200 مردوں کو دفناؤں گا اور بس لیکن موجودہ صورتحال میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی، میرے پاس اس وقت بس 50 سے 60 قبروں کی جگہ باقی ہے اور اس کے بعد کیا ہوگا مجھے کچھ معلوم نہیں۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق  دہلی میں، جون کے بعد سے تقریبا 500000 افراد کو ماسک نہ پہننے پر اور سماجی دوری کے قواعد کو نظرانداز کرنے پر 370000 روپے اور تھوکنے پر 3500 جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

انڈیا میں مارچ میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا لیکن لاکھوں نوکریوں کے نقصان کے بعد حکومت کے معیشت کو بحال کرنے کی کوشش میں پابندیاں آہستہ آہستہ کم کی گئیں جبکہ  ماہرین کاکہناہےکہ اس سے وبا کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ عام طور پر لوگ ماسک پہننے اور سماجی دوری رکھنے کو تیار نہیں، یہی وجہ ہے کہ اب پابندیاں دوبارہ عائد کی جارہی ہیں۔

دوسری جانب مغربی شہر احمدآباد میں حکام نے سنیچر اور اتوار کی چھٹی کے دوران لوگوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے اور  راجیو کمار گپتا نام کے ایک مقامی افسر کا کہنا ہےکہ اس دورانیے میں صرف دودھ اور ادویات کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔

دہلی میں قائم انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر کا کہناتھا کہ کیسز کی تعداد میں اضافہ تشویش کی بات ہے کیونکہ اس کی وجہ لوگوں کا بنیادی کورونا کے حوالے سے مناسب رویہ اختیار نہ کرنا ہے۔

دوسری جانب بنگلور سے تعلق رکھنے والے طبی ماہرین  کا کہنا تھاکہ ایسا ممکن ہےکہ سرکاری اعداد و شمار میں بڑے شہروں کے کیسز کی تعداد گنتی میں نہیں لائی جارہی ہے، میرا اندازہ ہے کہ یہ آہستہ آہستہ اور خاموشی سے دیہی علاقوں میں پھیل رہا ہے۔