جیکب آباد ،قیدیوں کا چھتوں پر چڑھ کر جیل انتظامیہ کیخلاف احتجاج

47

جیکب آباد (نمائندہ جسارت) جیکب آباد ڈسٹرکٹ جیل کے قیدیوں کا جیل کی بیرکوں کی چھتوں پر چڑھ کر جیل انتظامہ کیخلاف احتجاج، سخت نعرے بازی، بااثر قیدیوں کو تمام تر سہولیات میسر، ہمیں کیوں نہیں؟ جیل انتظامیہ حرکت میں، بھاری نفری طلب۔ جیکب آباد جیل کے قیدیوں نے جیل انتظامیہ کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے بیرکوں میں رکھے اپنے سامان کو آگ لگا کر چھتوں پر چڑھ گئے اور جیل انتظامیہ کیخلاف سخت نعرے بازی کی، اس موقع پر قیدیوں کے ورثا نے بھی جیل کے باہر احتجاج کیا۔ قیدیوں کا کہنا تھا کہ جیل کے اندر بااثر قیدیوں کو سہولیات میسر دی جارہی ہیں، ہمیں کوئی سہولیات میسر نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اور جیل کے اندر صفائی بھی نہیں کی جاتی، پینے کے لیے ہمیں میٹھا پانی نہیں دیتے، ہم کھارا اور نمکین پانی پینے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے جیل کے اندر بہت سے قیدی ہر وقت بیمار رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیل انتظامیہ ہر وقت قیدیوں سے رشوت طلب کرتی ہے، نہ دینے کی صورت میں ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ہم جیل کے اندر ان کو کہاں سے رشوت دیں۔ اس موقع پر قیدیوں سے ملاقات کے لیے آنے والے رشتہ داروں نے بھی جیل کے باہر جیل انتظامہ کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے رشتہ دار قیدیوں سے جب بھی ملاقات کے لیے جیل آتے ہیں تو جیل انتظامیہ ہم سے پانچ سو روپے فی آدمی سے لے کر قیدی سے ملاقات کرواتے ہیں اگر ہم تین افراد جائیں تو پندرہ سو روپے رشوت لیتے ہیں حکومت کو چاہیے کے وہ نوٹس لے کر راشی انتظامہ کیخلاف کارروائی کرے اور قیدیوں اور ان کے ملاقاتیوں کو ان کے عذاب سے بچائے۔ واقع کا ڈی آئی جی جیل سکھر راجہ ممتاز اعوان نے نوٹس لے کرجیل سپرنٹنڈنٹ کو جیکب آباد جیل کے قیدیوں کے مسائل جلد حل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ قیدیوں نے ڈی آئی جی جیل سکھر راجہ ممتاز اعوان نے مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی پر کئی گھنٹوں بعد احتجاج ختم کرکے بیرکوں کی چھتوں سے نیچے اتر آئے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل جیکب آباد نے رابطے پر بتایا کہ قیدی موبائل فون کا غیر قانونی مطالبہ کررہے تھے، جو پورا نہیں کیا جاسکتا۔ جیل میں پی سی او لگایا گیا ہے، ورکنگ اوقات میں قیدی بات کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے بالا حکام کو آگاہ کیا ہے، ملاقات کے لیے رشوت لینے کی شکایات پر مقرر اہلکار کو ہٹایا گیا ہے، قیدیوں کا احتجاج بلاجواز ہے۔