ٹنڈوالٰہیار،عدالتی احکامات نظرانداز ،منشیات کی کھلے عام فروخت

22

ٹنڈوالٰہیار (نمائندہ جسارت) ٹنڈوالٰہیار کا شہری منشیات کی کھلے عام فر وخت کیخلاف اٹھ کھڑا ہوا، ضلع میں عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہونے اور ملک و قوم کے معماروں کو مین پوری سمیت دیگر منشیات کے ذریعے تباہ کرنے پر عبداللطیف بلوچ کا ٹنڈوالہٰیار سے حیدر آباد پریس کلب تک پیدل مارچ، ضلع بھر میں کھلے عام فروخت ہونے والی منشیات کو فوری بند نہ کیا تو کراچی پریس کلب، اسلام آباد پریس کلب سندھ ہائی کورٹ کراچی اور عدالت عظمیٰ اسلام آباد پر بھی احتجاج کر نے کا اعلان۔ ٹنڈوالہٰیار کے شہری منشیات کی کھلے عام فروخت کیخلاف اٹھ کھڑا ہوا، ضلع میں عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہونے اور ملک و قوم کے معماروں کو مین پوری سمیت دیگر منشیات کے ذریعے تباہ کرنے پر عبداللطیف بلوچ کا ٹنڈوالہٰیار سے حیدر آباد پریس کلب تک پیدل مارچ کے دوران نیشنل پریس کلب ٹنڈوالہٰیار پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ دو سال سے تمام سرکاری اداروں سمیت سیاسی و سماجی اور مذہبی تنظیموں کے رہنمائوں کے پاس چکر لگا کر بتایا کہ میرا بیٹا اس منشیات کے سبب انتقال کرگیا ہے، میرے بیٹے کی طرح قوم کے معماروں کو تباہی سے بچانے کے لیے اقدامات کریں اور آواز حق بلند کی جائے کہ ضلع بھر سے مین پوری سمیت دیگر منشیات کے کاروبار کو فوری طور پر بند کرانے میں اپنا کردار ادا کریں لیکن ضلع بھر کے سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے افسران نے چپ سادھ رکھی ہے۔ ضلع بھر میں بھاری رشوت کے عوض پولیس کی سرپرستی میں مین پوری سمیت دیگر منشیات کھلے عام فروخت ہوئی اور کئی انسانی جانیں بھی ضائع ہوچکی ہیں۔ ٹنڈوالہٰیار کے شہری کو پرائیویٹ ٹیکسی ڈرائیور یونین کے جنرل سیکرٹری ریاض جٹ، سندھ سماج رنگ کے سربراہ اشفاق قائم خانی، اقلیتی رہنما بھورو لعل نے انہیں لیاقت گیٹ سے کیریا شاخ کے مقام تک ان کے پیدل مارچ میں شامل ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹنڈوالہٰیار ضلع میں منشیات اور منشیات فروشی عروج پر ہے، منشیات بند کرانا ڈسٹرکٹ پولیس انتظامیہ کا کام ہے، جو کہ پولیس نہیں کررہی، کروڑوں روپے ماہانا منتھلی کے عوض منشیات فروشوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ نیشنل پریس کلب ٹنڈوالہٰیار کے ذریعے ہماری آواز ریاستی ایوانوں اور اداروں تک پہنچے اور ٹنڈوالہٰیار میں منشیات فروشوں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی ہو اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے، ہم سندھ ہائی کورٹ سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ منشیات کی بندش کے اپنے دیے گئے حکمنامے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے عملدرآمد کرائے۔