بلدیہ شرقی کے افسران پر لاکھوں روپے رشوت لینے کا الزام

60

کراچی(اسٹاف رپورٹر)بلدیہ ضلع شرقی کے افسران نے چند لاکھ کا چالان وصول کرکے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی سڑک ادھیڑ کر رکھ دی، گلشن اقبال یوسی 22 میں حال ہی میں تعمیر کی گئی سڑک روڈ کٹنگ مافیا کے حوالے کردی،کئی ہزارفٹ سڑک کو کھود کر زیر زمین کیبل ڈالے گئے،ڈی ایم سی افسران پر لاکھوں روپے مبینہ رشوت وصولی کا الزام،علاقہ مکینوں کے احتجاج کے باوجود سڑک کو کھود کر انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیا گیا،صورتحال کا علم ہونے کے باوجود ڈپٹی کمشنر وایڈ منسٹریٹر شرقی محمد علی شاہ کی پراسرار خاموشی سے ان کا کردار بھی مشکوک ہوکر رہ گیا،شہریوں کا محکمہ بلدیات،لوکل گورنمنٹ بورڈ سمیت تحقیقاتی اداروں سے فوری نوٹس لینے اور بدعنوانیوں میں ملوث افسران کا احتساب کرنے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق بلدیہ ضلع شرقی محکمہ بی اینڈ آر گلشن اقبال زون کے افسران نے روڈ کٹنگ مافیا سے چند لاکھ روپے کا چالان وصول کرکے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی سڑک کو کھدواکر ایک جانب علاقے کا انفراسٹرکچر تباہ کردیا ہے وہیں دوسری جانب حکومتی خزانے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچادیا ہے،ڈی ایم سی کے اندرونی ذرائع کے مطابق فائلوں کا پیٹ بھرنے کیلیے چند لاکھ روپے کا چالان وصول کرکے روڈ کٹنگ کا اجازت نامہ جاری کیا گیا ،ذرائع کے مطابق روڈ کٹنگ کے چارجز کے ریٹ میں کمی کے ساتھ ساتھ جتنے رقبے پر روڈ کٹنگ کی گئی ہے اس سے کئی گنا کم فاصلہ ظاہر کرکے افسران نے اپنی جیبیں گرم کرلی ہیں،ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گلشن اقبال یوسی 22 کے بلاک13،اے،بی ،سی اور ڈی میں انتہائی منظم انداز سے روڈ کٹنگ کا کام مکمل کیا گیا جبکہ ڈپٹی کمشنر شرقی نے صورتحال کا علم ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کیے رکھی جس کے باعث ڈپٹی کمشنر شرقی کا کردار بھی مشکوک ہوکر رہ گیا ہے ،علاقہ مکینوں کے مطابق چند ماہ قبل ہی مذکورہ سڑک تعمیر کی گئی تھی ، جس کو بے دردی کے ساتھ کھود کر ایک مرتبہ پھر سڑک کو برباد کردیا گیا ہے،شہریوں نے روڈ کٹنگ میں ملوث ڈی ایم سی کے کرپٹ افسران کیخلاف محکمہ بلدیات، محکمہ لوکل گورنمنٹ بورڈ سمیت تحقیقاتی اداروں سے فوری نوٹس ،تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔