ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شکارپور کا آئی جی سندھ کو خط

138

شکارپور(نمائندہ جسارت) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شکارپور کا آئی جی سندھ کو خط، خطرناک جرائم میں ملوث ملزمان گرفتار نہیں کیے جاتے، کورٹ میں چالان پیش کرکے خانہ پری کی جارہی ہے ، خط کا متن، ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں ، پولیس تفتیش کا بہانہ بناکر وقت ضائع کرتی ہے اور گرفتاریاں نہیں کی جاتی ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شکارپور۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شکارپور مشتاق احمد کلوڑ نے آئی جی سندھ کو خط لکھ کر بتایا ہے کہ شکارپور پولیس اہلکاروں کی جانب سے خطرناک جرائم اور مقدمات میں ملوث ملزمان کو پکڑنے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی ہے ، خط میں بتایا گیاہے کہ پولیس عملدار ان کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد تفتیشی افسران مختلف حیلے بہانوں سے وقت ضائع کرتے ہیں اور آخر میں عدالت میں چالان پیش کرکے خانہ پری کی جاتی ہے اور خطرناک ملزمان پکڑے نہیں جاتے، جبکہ مقدمات میں ملوث ملزمان شہروں میں کھلے عام گھوم رہے ہیں اور مجبورن مقدمات کورٹ میں منجمد ہوجاتے ہیں، خط میں 2020ء کے دوران مختلف جرائم میں ملوث ملزمان کی تعداد بھی لکھی گئی ہے، جس میں قتل میں ملوث 40، ارادہ قتل میں ملوث 10، لوٹ مار اور چوری میں ملوث 7، زنا میں ملوث 1، خواتین کے اغوا میں 4، قتل کے ارادے سے اغوا میں شامل 1 ، منشیات میں ملوث 2 ملزمان اور غیر قانونی اسلحے رکھنے میں ملوث ملزمان کی تعداد 16 ہے ، اس طریقے سے خطرناک جرائم میں ملوث 81 ملزمان کو گرفتار نہیں کیاگیا ہے ، خط میں سفارش کی گئی ہے کہ آئی جی سندھ، شکارپور پولیس کی جانب سے فقط چالان جمع کروانے والی روایت کو ختم کرکے خطرناک جرائم میں ملوث ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائے۔