میرواہ گورچانی،گرینڈ ہیلتھ الائنس کا احتجاج ،او پی ڈیز کا بائیکاٹ

10

میرواہ گورچانی (نمائندہ جسارت) میرواہ گورچانی میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کی اپیل پر پیرا میڈیکل اسٹاف کا احتجاج، او پی ڈی کا مکمل بائیکاٹ، پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے صوبائی رہنماؤں کی اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج میں شرکت، مطالبات منظور نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کرنے کی دھمکی۔ دیہی صحت مرکز میرواہ گورچانی میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کی اپیل پر پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کی جانب سے مطالبات کے حق میں اسماعیل آریسر، حنیف شیخ، یوسف گورچانی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور او پی ڈی کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔ مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لیے پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے صوبائی رہنماؤں اعجاز احمد کاکاپوٹہ، خادم حسین مستوئی، عبدالستار کمہار اور ریاض احمد سومرو نے احتجاج میں شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بے حسی کی انتہا کردی ہے، گزشتہ آٹھ ماہ سے ڈاکٹرز اور ہیلتھ ورکرز اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر کورونا وائرس کیخلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کررہے ہیں، اب تک ناجانے کتنے ڈاکٹرز اور ہیلتھ ورکرز کورونا وائرس سے لڑتے لڑتے شہید ہوچکے ہیں مگر حکومت روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاحال رسک الاؤنس، ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس اور دیگر جائز مطالبات تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 21 اکتوبر کو کراچی پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ روز سے پورے سندھ میں احتجاج کیے جارہے ہیں، لاکھوں مریض علاج کے لیے پریشان ہیں مگر محکمہ صحت سمیت وزیر اعلیٰ سندھ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پُرامن احتجاج کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے جائز مطالبات جلد تسلیم نہ کیے گئے تو وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا جس کی ذمے داری حکومت سندھ پر ہوگی۔