کارکنان کی گمشدگیوں کیخلاف دادو پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ

25

دادو (نمائدہ جسارت) دادو میں سماجی تنظیم سندھ سبھا کی جانب سے انعام عباسی، ڈاکٹر نذیر کھوکھر کی سربراہی میں سندھ سے جبری طور پر نوجوانوں اور کارکنان کی گمشدگیوں کیخلاف دادو پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ کا اہتمام کیا گیا، جس میں سیاسی، سماجی، مذہبی تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنان نے شرکت کی۔ مرتضیٰ کھوسو، غلام شبیر برڑو، لالا اسلم، اصغر جمالی، خادم چانڈیو، غلام مصطفی پنہور، خادم چانڈیو، مجاہد نجم الدین سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر سندھ سبھا صدر انعام سندھی نے کہا کہ سندھیوں کو لاپتا کرنے کا عمل غیر قانونی ہے، جبری گمشدگیوں کو روکنے کے لیے ہم نے سندھ کے 23 اضلاع میں دھرنے اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ ہمارے گم شدہ افراد کا اگر کوئی جرم یا غیر قانونی عمل ہے تو انہیں آئین کے مطابق عدالتوں میں لاکر قانونی طور پر کیس چلائے جائیں، رات کے اندھیرے میں ڈاکوئوں کی طرح نوجوانوں کو اٹھانا بند کیا جائے۔ نائب صدر سندھ سبھا نذیر کھوکھر نے کہا کہ ملک میں سول عدالتیں، اے ٹی سی سمیت فوجی عدالتیں موجود ہیں مگر اس کے باوجود سندھیوں کو حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے جرم میں لاپتا کیا جارہا ہے۔