نواز شریف دوسرے بانی ایم کیو ایم بن گئے، بھارت ان کی مدد کررہا ہے، وزیراعظم

213

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف ملک سے باہر بیٹھ کر فوج کے خلاف مہم چلار ہے ہیں، وہ دوسرے بانی ایم کیو ایم بن گئے ہیں، نواز شریف بہت خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں، جس میں بھارت ان کی پوری مدد کررہا ہے، ایک مجرم ملک سے باہر بیٹھ کر سازش کررہا ہے ہم اسے واپس بلوائیں گے

نجی ٹی وی کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو  میں  وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فوج نہ ہوتی تو پاکستان کے 3 ٹکڑے ہوچکے ہوتے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف بھارت کی مدد سے فوج کے خلاف بات کررہے ہیں، جن عدالتوں نے انہیں ریلیف دیا انہیں پر حملے کررہے ہیں، عدلیہ، فوج اور نیب خود جواب نہیں دے سکتے۔

نواز شریف بیان دے رہے ہیں جنرل ظہیر الاسلام نے کہا استعفیٰ دے دیں، آپ وزیراعظم تھے، کس کی جرات ہے کہ وہ استعفیٰ مانگتا، آپ اسی وقت اسے ٹیک آن کرتے، مجھے ایسے پیغام دیا جاتا تو میں اس کا استعفیٰ مانگتا، میں نواز شریف یا ذو الفقار علی بھٹو کی طرح فوج کی نرسری میں نہیں پلا، منتخب وزیر اعظم ہوں کس کی جرات ہے کہ مجھ سے استعفی مانگے، مجھ سے پوچھے بغیر آرمی چیف کارگل پرچڑھائی کرتا تو میں اسے فارغ کردیتا۔

نواز شریف بے شرمی سے جھوٹ بول کر بیرون ملک گئے

وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف بے شرمی سے جھوٹ بول کر بیرون ملک گئے، انہوں نے اتنی بیماریاں گنوائیں کہ ایسے لگتا تھا کسی بھی وقت مرسکتے ہیں، ہمیں بتایا گیا تھا کہ نواز شریف مرنے والے ہیں، نوازشریف سے متعلق کابینہ کا 6 گھنٹے طویل اجلاس ہوا، کسی کو بھی نواز شریف پر یقین نہیں تھا، ڈاکٹر فیصل اور یاسمین راشد سے بار بار کہا کہ نواز شریف کوچیک کریں، ہمیں تو لگتا تھا نواز شریف کہ وہ جہاز کی سیڑھیاں بھی نہیں چڑھ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کبھی ڈیموکریٹ نہیں رہے، ان کی ہر آرمی چیف سےلڑائی رہی، وہ تمام اداروں پر کنٹرول چاہتے تھے،یہ اقتدار میں مال بنانے کیلیے آتے ہیں، آئی ایس آئی اورایم آئی ورلڈ کلاس  ایجنسی ہیں، ایجنسیوں کو نواز شریف کی چوریوں کا پتا چل جاتاتھا۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج جمہوری حکومت کے پیچھے کھڑی ہے، اپوزیشن جماعتوں کو جمہوریت پسند نہیں، اپوزیشن کے پاس احتجاج کرنے کا حق ہے، لیکن قانون توڑا تو ایک ایک کرکے جیلوں میں ڈال دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے لیے جس ادارے کی ضرورت پڑے گی اسے استعمال کروں گا، گلگت بلتستان سے متعلق ملاقات کا مقصد تھا، جنرل باجوہ نے گلگت بلتستان سے متعلق ملاقات مجھ سے پوچھ کر کی تھی۔