کراچی کے حقوق کے بجائے مزید دکھ

194

جب بھی عوام کسی مسئلے پر احتجاج یا غصے کا اظہار کرتے ہیں، ڈھیٹ حکمران اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر وار کر دیتے ہیں۔ کراچی کے شہریوں نے کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کیا تو اگلے دن سے لوڈشیڈنگ بڑھ گئی۔ اب جماعت اسلامی کراچی شہر کو حقوق دلوانے کی مہم چلا رہی ہے تو ظالموں نے شہر کی بجلی کے ساتھ گیس بھی بند کر دی۔ بجلی کے یونٹ کی قیمت بھی بڑھا دی۔ اشیائے خورونوش بھی مہنگی ہو گئیں۔ غرض کہیں سے بھی ریلیف نام کی کوئی چیز نہیں نظر آرہی۔ وزیراعلیٰ سندھ کراچی پر دعویٰ بھی رکھتے ہیں اور سندھ کے دیہی علاقوں کا آبیانہ معاف کرانے کی تحریک بھی چلا رہے ہیں۔ زرعی زمینوں اور وڈیروں کو بارش اور وبا سے نقصان کے سبب ہر ٹیکس سے مستثنیٰ کروانا چاہتے ہیں۔ یعنی سندھ کے مختصر حکمران طبقے کو تمام رعایتیں دلوانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف صوبے کا عام باشندہ لاڑکانہ، نوابشاہ، حیدرآباد یا کراچی کہیں بھی رہتا ہو نہایت شدید و سنگین مسائل کا شکار ہے۔ اگر سندھ میں کہیں پانی سے فصلوں کو نقصان پہنچا ہے تو کہیں فائدہ بھی ہوا ہے۔ لیکن ہر فصل کو زیادہ پانی سے نقصان نہیں ہوتا۔ اسی طرح کراچی تو وبا کے نام پر تباہ کیا جا چکا تھا کہ بارش نے گویا اس شہر کی قبر بھی اکھاڑ کر پھینک دی۔ سڑکیں، گلیاں، گٹر، پل، بجلی کا نظام رہائشی عمارتیں سب تباہ ہو گئیں۔ ایسے میں اس شہر کے لوگوں کے بجلی، گیس اور پانی کے بل معاف ہونے چاہیے تھے بلکہ تین ماہ کے لیے تمام ادارے بل معاف کرتے وہ جو اربوں روپے کی غیر ملکی امداد وصول کی گئی تھی اس میں سے یہ بل اد کر دیے جاتے لیکن ایسا کرنے کے بجائے 2019ء کے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔ مزید ظلم یہ کیا گیا کہ بجلی کے نرخ مزید بڑھا دیے گئے۔ اب کراچی میں کاروبار بمشکل شروع ہوا تھا کہ سرکار نے نئے ٹیکسز اور مسائل پیدا کر دیے۔ اسکول کھولنے سے انکار کا نقصان بھی کراچی کو زیادہ ہوگا۔ اپنے مخصوص علاقوں میں تو عام حالات میں بھی یہ وڈیرے ڈگریاں اور نمبر تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت سندھ کراچی کی صنعتوں کا ٹیکس معاف کرتی۔ لوگوں کو کاروبار کرنے کے مواقع دیتی ان کو آسانیاں فراہم کی جاتیں اور ملکی و بین الاقوامی امداد سے یہ کام کیا جاتا لیکن یہاں معاملہ الٹا ہے۔ پانی، غائب، بجلی غائب اور اب گیس کا پریشر بھی کم… اس قدر شدید گرمی میں گیس کہاں جا رہی ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں۔ دوائوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ کراچی میں 14 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کر دی گئی ہے۔ دن کے علاوہ پوری پوری رات بجلی غائب کرنے کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ یہاں بھی سندھ اور وفاق کی لڑائی ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم نے نہایت بودا بیان دیا ہے کہ سندھ حکومت پائپ لائن کے لیے راستہ نہیں دے رہی ہے۔ گویا گیس بحران کا سبب یہ ہے۔ ہر سال ستمبر میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔ عوام کا کہنا ہے کہ آج کل فوج کو طاقتور کہا جاتا ہے لیکن اب تو لگتا ہے کہ حکومت، عدالت فوج سب سے زیادہ طاقتور ادارہ کے الیکٹرک ہے۔ یہ بین الاقوامی مافیا ہے اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ پا رہا۔ سب سے بڑی خرابی کراچی کی اصل نمائندگی ہے۔ کراچی کے دشمنوں اور شہر کو لوٹنے والوں نے دھاندلی سے اس شہر کی آبادی کم دکھا کر یہاں کی انتخابی صورتحال تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ نشستیں کم، فنڈز کم اور حکومت کی ذمے داری کم۔ اور اگر کراچی کی نشستوں پر دوسری بین الاقوامی مافیا کو جگہ دے دی جائے گی تو عوام کی نمائندگی کون کرے گا۔ آنے والے بلدیاتی الیکشن اور اس کے بعد قومی انتخابات میں کراچی والے اپنے حقیقی نمائندے تو چنیں۔ اور قومی انتخابات سے قبل تو نئی مردم شماری کروا کر کراچی کو حقیقی نمائندگی دیں۔ جو لوگ اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں چار سال بلدیہ میں رہے جو مرکزی حکومت کے حلیف ہیں وزیر ہیں اصل مجرم یہی ہیں۔ 35 سال سے کسی نہ کسی طرح بلدیات، اسمبلی اور حکومت میں رہتے ہیں انہوں نے کوئی کام کرکے نہیں دیا۔ نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ اہل کراچی جماعت اسلامی کی کراچی حقوق مہم میں ساتھ دیں تو ان کے مسائل کے حل کی منزل قریب آسکتی ہے۔ ابھی سڑک پر نہیں آتے تو ووٹ کے لیے تو نکلیں سب کو لے کر نکلیں۔ یہ پارٹی کا مسئلہ نہیں شہر کا مسئلہ ہے۔