فوج کا تمسخر اڑانا جرم

424

اگرچہ پاکستانی سماجی میڈیا کے استعمال میں طاق ہو گئے ہیں لیکن اس کے پیچھے مقاصد اور سازشوں کو سمجھنے میں انہیں وقت لگے گا۔ پاکستانیوں کی عادت ہے بلکہ ساری دنیا میں لوگوں کی عادت ہے کہ کوئی دلچسپ چیز سوشل میڈیا پر دیکھی فوراً آگے بڑھا دی۔ لیکن پاکستان کے خلاف بھارت جتنی سمتوں سے حملہ آور ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر پہلو سے نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کے مختلف حلقوں سے پاکستان میں مذہبی اختلافات پیدا کرنے، حکومت اور عوام میں اختلافی مسائل کو اچھالنے اور خصوصاً پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈے پر زور صرف کیا جاتا ہے۔ بس ایک پوسٹ کسی اور ملک سے پاکستان کے کسی گروپ میں ڈال دی جاتی ہے۔ کبھی براہ راست پاکستان میں کسی کو بھیج دی جاتی ہے وہ سادگی میں یا کسی جذباتی مسئلے کی وجہ سے یہ پوسٹ فوراً پاکستانی گروپوں میں آگے بڑھا دیتے ہیں۔ کسی گروپ میں پاکستانی اداروں کا آدمی ہوتا ہے تو وہ نوٹ کر لیتا ہے اور کوئی ذاتی پوسٹ ہو تو پتا نہیں چلتا۔ آج کل پاکستانی خفیہ ادارے اس مہم کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔ ایسے میں قومی اسمبلی میں حکومتی رکن اسمبلی امجد علی خان نے بل پیش کر دیا جس کے تحت مسلح افواج یا اس کے کسی رکن کا تمسخر اڑانا جرم ہوگا۔ تعزیرات پاکستان میں مجوزہ ترامیم کے تحت پاک فوج کے وقار کو جان بوجھ کر گزند پہنچانے یا بدنام کرنے والے کو دو سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ پاک فوج کی خدمات کی روشنی میں یہ سزا زیادہ ہونا چاہیے۔ لیکن ایک سوال اس کے ساتھ یہ ہے کہ صحابہؓ کرام کی عزت و وقار پر حرف لانے یا ان کے بارے میں غیر اخلاقی جملے کہنے پر بھی ایسی ہی سزا یا اس سے زیادہ سزا ہوگی۔ اس جانب توجہ کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی ملک کی فوج کی طرح اپنے ملک کے لوگوں سے عزت و وقار کے رویے کی توقع رکھتی ہے اور کوئی شخص جان بوجھ کر پاک فوج یا اس کے وقار اور کسی شخصیت کے خلاف اس کی شہرت کو خراب کرے یا تمسخر اڑائے تو اس کی گرفت کی جانی چاہیے۔ اگرچہ جمہوری معاشرے اور آزادیٔ اظہار رائے کے حوالے سے ایسا قانون خلاف آئین یا شہریوں کی آزادی سلب کرنے کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اس وقت ملک کے جو حالات ہیں ان میں عدالت عظمیٰ بھی شہریوں کے اس حق سے محرومی کے معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ خود چیف جسٹس اس کا برملا اعتراف کر چکے ہیں کہ عدلیہ کے جج آزاد نہیں اور بیرونی دبائو بھی ہے۔ کسی ادارے یا اس کی کسی شخصیت کا تمسخر اڑانے کے چند اسباب ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ادارہ ہے ہی ایسا، لیکن پاک فوج تو ایسی نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کا مذاق اڑانے والوں کے اپنے عزائم ہیں یا وہ کسی کے اشارے پر ایسا کر رہے ہیں۔ اس صورت میں تمسخر اڑانے والے کی گرفت لازمی ہے۔ ادارے میں خرابی ہو تو مذاق اڑانا فطری امر ہے۔ البتہ ایک اور سبب ادارے کے وقار پر حرف لانے کا باعث ہے۔ اور وہ ادارے کے افراد یا افسران کا ایسے اقدامات کرنا جس کی وجہ سے ادارے کا مذاق اڑے یا ان کا اپنا مذاق اڑایا جائے۔ جیسا کہ جنرل پرویز مشرف نے ایک کے بعد ایک قدم اٹھا کر اپنا اور ادارے کا مذاق بنایا۔ بعض ججز کی ویڈیوز منظر عام پر آئیں جو ان کے اور ادارے کے تمسخر کا سبب بنیں۔ اسی طرح اداروں کے سربراہوں اور اداروں کے اعلیٰ افسران کو اپنے ادارے کے وقار کے تحفظ کی خاطر خود بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو ادارے یا کسی اعلیٰ افسر کا تمسخر اڑانے کا سبب بنے اور حدود میں رہتے ہوئے اپنے اعلیٰ افسران کو بھی اس سے روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہرحال پاک فوج کے وقار کی خاطر تعزیرات پاکستان میں ترامیم کی گئی ہیں تو عوام، سیاستدانوں اور پاک فوج کو بھی اس بات کا اہتمام کرنا ہوگا کہ ادارے کے وقار پر حرف نہ آئے۔ فوج اتنا طاقتور ادارہ ہے کہ اس کا مذاق اڑانے کے لیے بڑی ہمت اور کسی غیر ملکی طاقت کی پشت پناہی درکار ہوتی ہے لیکن فوج کے اپنے بڑوں کے بعض فیصلے خود فوج کو خراب پوزیشن میں لے جا سکتے ہیں۔لہٰذا ہر جانب سے سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ کسی فیصلے یا اقدام کی نشاندہی کی ضرورت بھی نہیں سب کو اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔