پرانے وعدے اور نئے سبز باغ

190

گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نیازی نے لاہور کے قریب نیا شہر بسانے کا اعلان کیا تھا اس پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے درست گرفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے لیے حکومت کے پاس پیسہ نہیں ہے اور نئے شہر بسانے چلے ہیں۔ یہ شہر کیسے بسائے جائیں گے۔ اگر تعلیم کا بجٹ کم ہے تو نیا شہر بسانے کے لیے اس میں تعلیمی سہولیات تو دینا ہوں گی۔ اس بجٹ میں سے کاٹ کر اگر رقم منتقل کی گئی تو بجٹ کی مجموعی شرح مزید کم ہو جائے گی۔ لیکن ایک سوال اپنی جگہ ہے کہ جو پرانے شہر ہیں حکومت ان کو تو بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام ہے تو نئے شہر کا کیا حال کرے گی۔ ہمارے حکمران بہت جلد اپنے وعدوں کو بھول جاتے ہیں۔ عمران خان اپنے وعدوں کو بھلا کر نئے سبز باغ کیوں دکھا رہے ہیں۔ ایک کروڑ ملازمتیں، 50 لاکھ گھر، بیرون ملک سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لانا، کرپشن کا خاتمہ ان وعدوں کا کیا بنا۔ آئی ایم ایف جانا خودکشی ہے کہنے والے سب سے پہلے آئی ایم ایف کی طرف دوڑ پڑے۔ پھر عالمی بینک کے سامنے کاسہ گدائی پھیلایا پھر اپنی ٹیم میں مشیروں اور معاونین کی فوج بھرتی کرلی جو ان ہی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں یا جن کے کھونٹے اور مفادات بیرون ملک ہیں۔ وزیراعظم صاحب پہلے بنیادی ضروریات فراہم کریں۔ اس کے بعد نئے نئے سبز باغ دکھائیں۔