صرف چند روز میں!!!

264

اقوام متحدہ نے امریکا کو ہدایت کی ہے کہ مظاہرین کے ساتھ تحمل سے نمٹے، سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے اس پر تشویش ظاہر کی ہے کہ صرف چند دن میں پولیس تشدد کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔ امریکی حکام مظاہرین سے تحمل سے نمٹیں اور پولیس تشدد کے الزامات کی تحقیقات کرائیں۔ اقوام متحدہ کی اس چابکدستی اور سرعت پر اسے زبردست خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔ معاملہ امریکیوں کا ہے تو اقوام متحدہ کو چند ہی روز میں امریکی حکام کو ہدایت کی سوجھی۔ انتونیو گوترس کو پاکستانی وزیر خارجہ بتائیں کہ بھارتی فوج کشمیری مظاہرین سے 70 برس سے تشدد کے ذریعے نمٹ رہی ہے۔ آج تک اقوام متحدہ کے کسی سیکرٹری جنرل نے بھارت کو مظاہرین سے تحمل کے ساتھ نمٹنے کا مشورہ نہیں دیا۔ حیرت ہے چند روز میں چند کیسز پر انتونیو گوترس تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک، او آئی سی اور دیگر اسلامی تنظیمیں اقوام متحدہ کی توجہ کشمیر، فلسطین، برما، بنگلا دیش، بھارت کے اندر گائے ذبیحے اور کورونا پھیلانے کے الزامات پر اور متنازع شہریت قانون، بابری مسجد سمیت درجنوں واقعات پر احتجاج کرنے والوں پر تشدد، شام اور یمن میں حکومت کے مخالفین کے ساتھ پرتشدد رویہ پر اقوام متحدہ کی توجہ دلائے۔ اسے مجبور کرے کہ ان مقامات پر بھی تشدد کرنے والے حکام کو تنبیہ کی جائے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نہایت نفاست سے گفتگو کرتے ہیں۔ انہیں اس کی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو کشمیر میں جاری تشدد پر ہی قائل کریں اور بھارت کے خلاف کارروائی کروائیں۔ امریکیوں کا جہاں تک معاملہ ہے یہ نہ تو سرمایہ دارانہ نظام کی تباہی کا اشارہ ہے اور نہ ہی اس کے خاتمے کا کوئی نقطہ آغاز بلکہ یہ سب کچھ سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہے۔ اس نظام میں حمایت بھی اسی طرح اندھی ہوتی ہے اور مخالفت بھی۔ معاشرے کو چلانے والے جس طرح چاہتے ہیں سب کو ہانکتے ہیں۔ اس لیے اس آگ کو دیکھ کر خوش ہونے والے بھی احتیاط کریں۔ پورے امریکا میں کبھی مسلمانوں کے خلاف کسی تشدد اور زیادتی پر اس طرح لوگ سڑکوں پر نہیں آئے ہیں۔ صرف گزشتہ تین ماہ کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلے گا کہ مساجد میں آگ لگانے کے واقعات ہوئے ہیں، سور کی آلائشیں پھینکی گئی ہیں، صرف اسلامی نام کی وجہ سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا ہے اور مسلمانوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ امریکی مسلمانوں کی تنظیم کیئر کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں ایسے ڈیڑھ درجن واقعات ہو چکے ہیں لیکن اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پتا ہی نہیں چلا۔ کیئر ان سارے معاملات سے عدالتی اور قانونی طور پر نمٹ رہی ہے۔ اقوام متحدہ مسلمانوں کے معاملات پر نوٹس لینے میں بہت سست اور امریکیوں کے لیے بڑی چست ہے۔ بات سمجھ میں آنے والی ہے۔