نماز جمعہ پر پابندی اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے، حسین محنتی

165
حیدرآباد:محمد حسین محنتی دورے کے دوران مرکز تبلیغ اسلام میں جے آئی یوتھ کے کارکنان و ذمے داران سے خطاب کررہے ہیں

حیدرآباد/بدین(نمائندہ جسارت)سرپرست الخدمت فاؤنڈیشن سندھ امیر جماعت اسلامی سندھ محمدحسین محنتی نے کہا ہے کہ مساجد کو تالے اور نماز جمعہ پر کرفیو و پابندی لگا کر اللہ کو ناراض اور اس کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے،پہلی دفعہ اتنی بڑی آفت نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اس صورت حال میں کارکنان غریب آدمی تک اس کی مدد کے لیے پہنچیں۔ جماعت اسلامی اپنے رفاہی ادارے الخدمت فاونڈیشن کے ذریعے بلا امتیاز خدمات انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں عوام کورونا سے نہیں اللہ سے ڈریں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کا احساس کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ حیدرآباد کے موقع پر مرکز تبلیغ اسلام شاہ مکی روڈ پر جے آئی یوتھ کے کارکنان، ذمے داران اور لطیف آباد 11 میں راشن تقسیم کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا،امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد حافظ طاہر مجید،الخدمت فاؤنڈیشن ضلع حیدرآباد کے صدر ڈاکٹر سیف الرحمن،عبدالقیوم حیدر ودیگر موجود تھے۔کورونا وائرس سے نجات اور پوری انسانیت کی حفاظت و صحت یابی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔علاوہ ازیں ٹنڈو باگو میں الخد مت کے تحت لاک ڈائون سے متاثرہ افراد میں راشن بیگ تقسیم کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے محمد حسین محنتی نے کہا کہ قدرتی آفات پر اللہ سے توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ کرنے کے بجائے حکمران اللہ کے گھر مساجد کو تالے اور نماز جمعہ پر کرفیو و پابندی لگا کر اللہ کو ناراض اور اس کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ قوم مساجد کو تالے، نمازجمعہ پر پابندی اور شعائر اسلام کے خلاف کوئی فیصلہ قبول نہیں کرے گی۔ اللہ کے گھروں پر صرف اللہ کا حکم چلے گا۔ کورونا وائر س کی وجہ سے آج پوری دنیا سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔ بیماری کے بجائے اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ احتیاطی تدابیر لازم ہیں مگر یہ بھی ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ موت تو ایک دن ضرور آنی ہے۔ لوگوں کو بیماری سے خوف و ڈرانے بجائے انہیں امید اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر امیرضلع بدین مولانا غلام رسول احمدانی، قیم ضلع سید علی مردان شاہ، مولانا عبدالکریم بلیدی ، الخدمت کے صدر عبداللطیف کھوسہ اور سیکرٹری اطلاعات سندھ مجاہد چنا سمیت دیگر ذمے داران بھی ساتھ موجود تھے۔