قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

136

اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھس آئے ہوتے اور اْس وقت انہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریک فتنہ ہونے میں کوئی تامل ہوتا۔ ان لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ یہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہی تھی۔اے نبیؐ! ان سے کہو، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہو گا اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں مل سکے گا۔ اِن سے کہو، کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہو اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے؟ اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ تم پر مہربانی کرنا چاہے؟ اللہ کے مقابلے میں تو یہ لوگ کوئی حامی و مدد گار نہیں پا سکتے ہیں۔ (سورۃ الاحزاب:14تا17)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آخری زمانے میں ایسے لوگ سامنے آئیں گے جو دھوکا و فریب کے ساتھ دین کے نام پر دنیا کمائیں گے۔ وہ لوگوں کو اپنی نرم مزاجی ظاہر کرتے ہوئے (دنیا کے سامنے) بھیڑ کی کھال پہنیں گے۔ ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی (یعنی وہ مؤثر نعرے لگائیں گے اور مؤثر باتیں کریں گے) مگر ان کے دل بھیڑیوں کے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ عزوجل فرمائے گا: کیا میرے نام پر دھوکا کرتے ہو یا مجھ پر جرات کرتے ہو؟ مجھے اپنی ذات کی قسم! میں ان لوگوں پر ضرور ایک فتنہ (آزمائش و مصیبت) بھیجوں گا جو ان میں سے بردبار لوگوں کو بھی حیران و پریشان کر دے گا‘‘۔
(ترمذی)