قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

537

اے نبیؐ! اللہ سے ڈرو اور کفار و منافقین کی اطاعت نہ کرو، حقیقت میں علیم اور حکیم تو اللہ ہی ہے۔ پیروی کرو اْس بات کی جس کا اشارہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں کیا جا رہا ہے، اللہ ہر اْس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اللہ پر توکل کرو، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔ اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دِل نہیں رکھے ہیں، نہ اس نے تم لوگوں کی اْن بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری ماں بنا دیا ہے، اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو، مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی بر حقیقت ہے، اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ (سورۃ الاحزاب:1تا4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرض لیا اور دل میں اسے ادا کرنے کی نیت رکھتا تھا پھر وہ مر گیا تو اللہ اسے معاف فرما دے گا اور اس کے قرض خواہ کو اس کی مرضی کے مطابق کچھ دے کر راضی کر دے گا اور جس نے قرض لیا مگر اس کے دل میں اسے ادا کرنے کا ارادہ نہ تھا پھر وہ مرگیا تو اللہ قیامت کے دن اس کے قرض خواہ کے لیے اس سے تقاضا کرے گا۔ (المعجم الکبیر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہے اور قرضہ دینے کا ثواب اٹھارہ گنا ہے۔ (ابن ماجہ)