دکانداروں کی ہٹ دھرمی جاری،حکومت لاک ڈائون پر مجبور

276

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) شہر بھر میں اکثر علاقوں میں شہریوں کی ہٹ دھرمی جاری،پابندی کے باوجود دکانیں کھلی رہیں ا ور کاروبار جاری رہا۔ سندھ حکومت شہر کو لاک ڈائون کرنے پر مجبور ہوگئی،پولیس دن بھر شہریوں کو دکانیں و کاروبار بند کرنے کے لیے کہتی رہی۔ جمعہ کے روز شہر کے مختلف علاقوںلیاقت آباد، لائینز ایریا، گارڈن، جمشید روڈ، پٹیل پاڑہ، پی آئی بی، صدر، گلستانِ جوہر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ابھی تک حکومت کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی جاری ہے۔ مذکورہ علاقوں میں کپڑوں کی دکانیں ، سلون ، بیوٹی پالر، اسٹیٹ ایجنسیاں ، ٹیوشن سینٹرز، الیکٹرونکس شاپس ڈبو اور کیرم گیم زون اندورنی علاقوں میں کھلے عام چل رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔واضح رہے کہ شہر میں کورونا کے مریضوںکی تعداد بڑھ رہی ہے ۔شہریوں کی جانب سے تعاون نہ کرنے پرسندھ حکومت اس تناظر میں شہر بھر کو لاک ڈاؤن کرنے کے لیے مجبور ہو گئی ہے۔ تاہم بعض علاقوں میں اس سلسلے میں کاروائیاں کی گئیں اور متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ادھرڈپٹی کمشنر کی عدم دلچسپی اور علاقہ پولیس کی سرپرستی میں اختر کالونی، ناگن چورنگی سیکٹر 11-Hکے ڈی اے فلیٹ میں قائم چائے کے ہوٹل مالکان نے سندھ حکومت کے احکامات ردی کی ٹوکری میں ڈال دیے ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے ہوٹلز پر پابندی کی وضاحت کرتے ہوئے ہدایات دی ہیں کہ جن ہوٹلز میں ٹیک اوے کا نظام موجود ہے وہ ہوٹلز کھول سکتے ہیں جبکہ صوبے بھر کے چائے خانوں کو 15روز کے لیے بند رکھنے کا حکم دیا تھا مگر ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی کی نااہلی کے باعث ضلع بھر میں حکومتی احکامات کی کھلے عام خلاف ورزی کی جارہی ہے۔