حیدرآباد ،بازار،ریستوران ،آٹا چکیاں بند ،ٹریفک غائب ،سڑکیں ویران

201

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) کورونا وائرس کے باعث سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن کے احکامات کے بعد حیدرآباد کے تمام تجارتی مرکز‘شاپنگ مال‘ ہوٹلیں ‘ بازار‘ گوشت مارکیٹس یہاں تک کے پولیس نے آٹے کی چکیاں تک بند کرادیں‘ شہر کی سڑکیں ویران‘ سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن کے احکامات کے بعد کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی اوراسسٹنٹ کمشنر لطیف آباد نے شہر کے تمام تجارتی مراکز‘ مارکیٹ ٹاور‘ شاہی بازار‘ ریشم بازار‘ صدر کینٹ‘ بوہری بازار‘ لجپت روڈ‘ کھو کھر محلہ‘ لطیف آباد اور قاسم آباد میں قائم کلاتھ مارکیٹ‘ شاپنک مال‘ہوٹلیں‘ بند کرادیں بدھ کے روز معمول کے مطابق کاروبار کھلتے ہی پولیس نے فوری طور پر بند کرادیا یہاں تک کے پولیس نے تمام قوانین کو پس پشت رکھتے ہوئے گرونگر میں واقع آٹا چکیاں بھی بند کرادیں جس کے باعث شہریوں میں آٹے کی قلت کی افواہوں کے باعث لوگ پریشانی کے عالم میں آٹا دکانوں سے مہنگے دامون خریدنے لگے انتظامیہ کی جانب سے بڑی تجارتی مراکز کے ساتھ ہی چھوٹے بازار اور چائے کی ہوٹلیں بھی بند کرادی گئیں تاہم میڈیکل اسٹورز کھلے رہے ،شہر میں تجارتی مراکز کو 15روز کے لیے بند کیا گیا ہے۔ ڈ پٹی کمشنرواسسٹنٹ کمشنرز نے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور شہریوں میں ماسک تقسیم کیے شہر میں تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے کے باعث ٹریفک بھی سڑکوں سے غائب ہوگیا جبکہ عدالتی امورمعطل ہونے سمیت سندھ کے سرکاری اداروں میں ایک روز قبل ہی چھٹی کا سماں ہوگیا تاہم شہریوں نے چھوٹے بازار اورکھانے پینے کی اشیا پولیس کی جانب سے بلا جواز بند کرانے پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ لوگ کورونا سے نہیں بلکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پیدا کیے گئے حالات سے ضرور مرجائیں گے ،شہریوں نے اس طرح اچانک اسسٹنٹ کمشنر او رپولیس کی جانب سے دکانداروں پر چڑھائی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے اقدامات ذخیرہ اندوزی کو جنم دیتے ہیں خوف وہراس کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں ۔