شرح سود میں کمی، اس کی بھی کیا ضرورت تھی

1048

اسٹیٹ بینک کے سربراہ نے شرح سود میں محض 0.75 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے جسے ناقابل ذکر ہی کہا جاسکتا ہے ۔ عمران خان نیازی کے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں شرح سود میں اضافہ شروع ہوگیا تھا جو تقریبا دگنا ہو کر 13.25 فیصد پر پہنچ گیا تھا ۔یہ شرح سود پوری دنیا میں بلند ترین ہے جس نے ملکی معاشیات پر بدترین اثرات مرتب کیے ۔ ماہرین کی بار بار نشاندہی کے باوجود عمران خان نیازی کی معاشی ٹیم اسے کم کرنے پر تیار نہیں تھی جس کی وجہ سے ملک کی معاشی نمو کم سے کم تر ہوتی چلی گئی ۔ کورونا نے پوری دنیا میں اپنے اثرات مرتب کیے ہیں جن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر ملک اقدامات کررہا ہے جس میں شرح سود میں کمی بھی شامل ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک ہفتے میں دوسری بار شرح سود میں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس وقت امریکا میں شرح سود نہ ہونے کے برابر یعنی محض 0.25 فیصد ہے ۔ آخر عمران خان نیازی ملک کے ساتھ کرنا کیا چاہتے ہیں جو وہ اتنی بلند شرح سود کو برقرار رکھنے پر مصر ہیں ۔ کیا انہیں نہیں معلوم کہ ملک میں صنعتوں کا پہیہ گھومے گا تو لوگوں کو روزگار ملے گا اور خوشحالی آئے گی ۔ جب صنعتیں چلیں گی تو حکومت کو ریونیو ملے گا اور انہیں آئی ایم اور عالمی بینک کے چنگل سے نجات ملے گی ۔ آخروہ کب تک کاسہ لے کر دنیا بھر سے بھیک جمع کرتے رہیں گے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ عمران خان نیازی کا کرکٹ کے علاوہ پورا تجربہ شوکت خانم میموریل اسپتال کے لیے دنیا بھر سے چندہ جمع کرنے کا ہے مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کے لیے قرض لینا اور کسی خیراتی پروجیکٹ کے لیے چندہ جمع کرنا بالکل الگ کام ہیں ۔ عمران خان نیازی اگر ملک کو خیرات پر چلنے والا پروجیکٹ بنانے کے بجائے ملک کے معاشی استحکام پر توجہ دیں تو وہ عوام کی ان خواہشات پر پورا اتر سکیں گے جن کے لیے انہیں مسند وزارت عظمیٰ پر بٹھایا گیا ہے ۔ عمران خان نیازی ڈپوٹیشن پر پاکستان آئی ہوئی آئی ایم ایف کی ٹیم کو اگر واپس بھیج دیں تو یہی پاکستان کے عوام پر ان کا کرم ہوگا ۔