کورونا وائرس بین الاقوامی سطح پر خطرہ بن کر ابھرا ہے، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد

50

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ڈپٹی کمشنر حیدرآباد عائشہ ابڑو نے کہا ہے کہ کورونا وائرس بین الاقوامی سطح پر ایک خطرہ بن کے ابھرا ہے ، دنیا کے مختلف ممالک میں اس وائرس کے خاتمے اور اس میں مبتلامریضوں کی تشخیص اور علاج کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں پاکستان میں بھی اس وائرس کا پہلا کیس ظاہر ہونے کے بعد حکومت اور انتظامیہ بھی اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہر وقت تیار رہیں جیسا کہ ماہرین کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس بیماری سے نمٹا جاسکتا ہے ۔ یہ بات انہوں نے آج کورونا وائرس کے حوالے سے محکمہ صحت حیدرآباد کی جانب سے کئے گئے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے افسران کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے اجلاس کو بتایاگیا کہ اس قسم کی بیماری 1960 میں بھی ظاہر ہوئی تھی لیکن اس وقت اُس کو کوئی نام نہیں دیاگیا بعد میں ایس آر ایس کے نام سے یہ بیماری ایک بار پھر ظاہر ہوئی جبکہ اس وقت چین میں اس بیماری کو کورونا وائرس کا نام دیاگیا ہے جس نے دنیا کو پریشان کر دیاہے ۔ اس بیماری میں وائرس جسم میں داخل ہو کر 14 دنوں میں انسانی پھیپھڑو ںکو سخت بنا کر انہیں ناکارہ کر دیتا ہے اس بیماری میں گلے میں درد اور بخار بھی ہوتا ہے ۔ محکمہ صحت حیدرآباد کی جانب سے ڈاکٹر فیصل کو فوکل پرسن مقرر کر کے ٹیم کے ساتھ کورونا وائرس کے تشخیصی عمل کی نگرانی کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد عائشہ ابڑو نے محکمہ صحت کے افسران کو رائے دی کہ وہ میڈیکل مانیٹرنگ ٹیمیں گھر گھر بھیجیں اور ان لوگوں کی تشخیص کریں جو متاثرہ ممالک سے سفر کر کے آئے ہیں اس ضمن میں تعلقہ سطح پر ٹیمیں تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ۔ اے ایم ایس سول ہسپتال شاہد جونیجو نے اجلاس میں بتایا کہ سول اسپتال میں 18 بستر پر مشتمل آئیسولیشن وارڈ قائم کیاگیا ہے جبکہ وائرس کی تشخیص کی کٹس پہنچ جائیں گی جس کے بعد سول ہسپتال میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ ہو سکیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایران سے آئے ہوئے دو افراد کے خون کے نمونے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد بھیجے گئے ہیں جن کی رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہو سکے گا کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہیں یا نہیں ۔ اے ایم ایس سول ہسپتال نے اجلاس میں بتایا کہ کورونا وائرس کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد پر اثر انداز ہو سکتا ہے جبکہ مضبوط قوت مدافعت رکھنے والے افراد کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔