اضافی بل بھیج کر بجلی صارفین کو پریشان کیا جارہا ہے،ہارون میمن

117

سکھر (نمائندہ جسارت) آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے بانی و قائد حاجی محمد ہارون میمن کی قیادت میں تاجروں کے وفد نے ایس ای سیپکو عبدالکریم میمن، ایکسین سیپکو سے گزشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے کے دوران جمع شدہ ڈیڈیکشن بلز کی عدم درستگی اور گرمی شروع ہونے سے قبل ہی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ سمیت دیگر شکایات کے حوالے سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سیپکو کے دیگر افسران اور آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کی سیپکو کمیٹی کے چیئرمین مولانا عثمان فیضی، ملک جاوید، حاجی یامین، کامران قریشی عرف بابر اور دیگر بھی موجود تھے۔ حاجی محمد ہارون میمن نے سیپکو افسران کے سامنے شکایات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے وفد کی 17 سے زائد ملاقاتیں سیپکو کے متعلقہ افسران سے ہوچکی ہیں اس کے باوجود ڈیڑھ سال کے عرصے کے دوران ڈیڈیکشن کی درستگی کے لیے جمع شدہ بل مکمل طور پر درست کرکے نہیں دیے گئے۔ گرمی شروع ہونے سے قبل ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے ۔ انہوں نے اس امر پر انتہائی حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جو بل ڈیٹکشن ختم کرنے کے لیے جمع کرائے تھے ان بلوں میں غیر متعلقہ افراد کے بل شامل کرکے درست کردیے گئے مگر ہمارے بلوں کی درستگی ابھی تک نہیں ہوسکی ہے۔ حاجی محمد ہارون میمن نے سیپکو افسران کے سامنے یہ شکایت کی کہ جن علاقوں میں میٹر سیکوئر کردیے گئے ہیں اور جن فیڈرز کو ایکسپریس کردیا گیا ہے وہاں کے صارفین پر بھی ڈیڈیکشن لگانا ظلم کی انتہا ہے۔ سیپکو انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ جہاں میٹر سیکوئر ہوجائیں گے اور فیڈرز ایکسپریس کردیے جائیں گے وہاں ڈیڈیکشن نہیں لگائی جائے گی مگر اپنے ہی اعلان کے برعکس ڈیڈیکشن لگا کر صارفین کو بلاوجہ تنگ و پریشان کیا جارہا ہے۔ ڈیڈیکشن شدہ بلوں کی درستگی کے لیے سیپکو کے مختلف دفاتر کے چکر لگوائے جارہے ہیں جبکہ سیپکو افسران کے ساتھ یہ بات طے ہوئی تھی کہ ون ونڈو آپریشن کے ذریعے ڈیڈیکشن شدہ بل درست کرکے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری شکایات اور ملاقاتوں کا مثبت نتیجہ نہ آنا باعث تشویش ہے، جس پر تاجر برادری میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس موقع پر ایس ای عبدالکریم میمن نے یقین دلایا کہ مذکورہ شکایات کا جلد ازالہ کیا جائے گا، اس پر حاجی محمد ہارون میمن کا کہنا تھا کہ ڈیڈیکشن شدہ بل جلد درست کرکے نہ دیے گئے، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم نہیں کی گئی، میٹرز سیکوئر سمیت ایکسپریس فیڈرز کے علاقوں میں ڈیڈیکشن لگانے کا سلسلہ نہ روکا گیا تو احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔