غریبوں کے گھر گرانا قبول نہیں ہے،وزیراعظم آئی جی کا مسئلہ حل کریں گے،وزیراعلیٰ سندھ

141
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ قومی یوم خواتین کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (نمائندہ جسارت) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے تجاوزات کسی صورت منظور نہیں مگر غریب کے گھر گرانے میں رضامند نہیں، عوام کے سر سے چھت گرانا سندھ حکومت کو قبول نہیں۔امید ہے وزیر اعظم آئی جی کا مسئلہ حل کریں گے۔وہ بدھ مقامی ہوٹل میں خواتین کے حوالے سے سندھ کمیشن کے زیر اہتمام تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے رہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ شہر میں جاری انسداد تجاوزات مہم کے دوران کسی کچے مکان کو بلڈوز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ صوبائی حکومت کو وقت دے تاکہ متاثرہ افراد کے متبادل کے لیے پورے سندھ میں انتظامات کیے جاسکیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے مشورے پر انہوں نے نئے آئی جی پولیس کی تعیناتی کیلیے 5 افسران کا پینل وفاقی حکومت کو بھجوایا پھر بھی معاملہ زیر التوا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم ان میں سے کسی ایک کو صوبے
کے امن و امان کے وسیع تر مفاد میں نئے آئی جی پولیس کے طور پر مقرر کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری آج نیب آفس اسلام آباد میں پیش ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی چیئرمین پیپلز پارٹی عوامی مسائل پر بات اور اپنے منصوبے کا اعلان کرتے ہیں تو انہیں نیب کے خطوط ملنے لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک نڈر لیڈر ہیں اور یہ نوٹسز انہیں عوامی مفادات سے متعلق امور اٹھانے سے باز نہیں رکھ سکیں گے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ صدر آصف زرداری 10 سال سے زیادہ عرصہ جیلوں میں قید رہے لیکن انکے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایف بی آر نے بغیر رضامندی محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو ہدایت کی کہ وہ اپنی طرف سے ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کریں۔ انہوں نے کہا ہمارا محکمہ ایف بی آر کی خدمت کر رہا ہے لیکن ایف بی آر نے سندھ حکومت کی شراکت کا ادراک کیے بغیر ہمارے کنسولیڈیٹڈ اکاؤنٹ سے کٹوتی کرنا شروع کردی۔ اب ہم نے کابینہ میں اس معاملے پر غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ آیا ود ہولڈنگ ٹیکس جمع کرنے کی سہولت کو جاری رکھنا ہے یا اسے واپس لیا جاسکتا ہے۔قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا جو معاشرہ خواتین کا احترام نہیں کرتا وہ کبھی پنپتا نہیں لہٰذا ہم نے قانون سازی کے ذریعے صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ