اسلامی معاشرے، سیکولر ازم اور خورشید ندیم

361

 جاوید احمد غامدی کے شاگرد رشید خورشید ندیم ایک اسلامی معاشرے کو مشرف بہ سیکولر ازم کے مشن پر نکلے ہوئے ہیں اور وہ اپنے کالموں کے ذریعے روشنی اور اندھیرے کو ایک ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اپنے ایک حالیہ کالم ’’مسلم معاشرے اور سیکولر ازم‘‘ میں انہوں نے لکھا۔
’’مشکل کی اس گھڑی میں کون ہے جو بھارت کے مظلوم مسلمانوں کا ہاتھ تھام سکتا ہے؟ ہرسمت سے ایک ہی آواز ہے: ’’سیکولرازم‘‘۔
ہمیں تو بتایا گیا ہے کہ سیکولرازم ’’لادینیت‘‘ ہے۔ مذہب کے خلاف اُٹھنے والا سب سے بڑا فتنہ۔ پھر وہ مسلمانوں کی مدد کو کیوں آئے گا؟ ان کی مذہبی شناخت کی حفاظت کیوں کرے گا؟ اب ان دو مقدمات میں سے ایک ہی درست ہوسکتا ہے: یا تو ہم نے سیکولر ازم کو سمجھنے میں غلطی کی یا پھر تجزیے میں۔ یا تو سیکولرازم لادینیت نہیں ہے یا پھر یہ مسلمانوں کا نجات دہندہ نہیں۔ میرا احساس ہے کہ آج یہ مسلم دنیا کا سب سے بڑا فکری مخمصہ ہے۔ اس نے ایک فکری پراگندگی کو جنم دیا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی اور لبرل ازم اس کے نتائج ہیں‘‘۔
(روزنامہ دنیا۔ 28 دسمبر 2019ء )
اپنے ایک اور کالم میں وہ زیر بحث بات کے تسلسل میں وہ یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ جماعت اسلامی پاکستان تو ملک کو ’’اسلامی‘‘ بنانے کی بات کرتی ہے مگر جماعت اسلامی ہند کہتی ہے کہ ہندوستان کو ’’سیکولر‘‘ ہونا چاہیے یعنی خورشید ندیم کے نزدیک ایک جگہ جماعت اسلامی اسلام کی علمبردار ہے اور دوسری جگہ سیکولر ازم کی۔
اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ ہندوستان کو جماعت اسلامی یا ہندوستان کے مسلمانوں نے ’’سیکولر‘‘ نہیں بنایا۔ ہندوستان کو جدید ہندوستان کے بانیوں گاندھی اور نہرو نے سیکولر بنایا۔ چناں چہ جماعت اسلامی ہند اور ہندوستان کے تمام مسلمان ہندو قیادت سے صرف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے بانیوں کے نظریات اور ان کے بنائے ہوئے آئین کی پاسداری کرو۔ گاندھی، نہرو اور امبیدکر اگر ہندوستان کو ’’ہندو ریاست‘‘ بنادیتے تو بھارت میں رہ جانے والے مسلمان ایک ہندو ریاست میں رہنے پر مجبور ہوجاتے یا پھر وہ کہیں اور ہجرت کرجاتے۔لیکن چوں کہ جدید ہندوستان کے بانیوں نے کہا کہ ہندوستان سیکولر ہوگا اور انہوں نے ایک سیکولر آئین بھی تشکیل دے دیا اس لیے مسلمان ہندو قیادت سے کہتے ہیں کہ اپنے آئین کی پاسداری کرو۔ چناں چہ اصولی اعتبار سے جماعت اسلامی ہند یا بھارت کے مسلمان سیکولر ازم کو ایک نظریہ حیات کی حیثیت سے حمایت نہیں کرتے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کے مسلمانوں کو اسلام اور سیکولر ازم میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مسئلہ درپیش نہیں۔ اگر ایسا ہوتا اور بھارت کے مسلمان اسلام پر سیکولر ازم کو ترجیح دے کر اس کی حمایت کرتے تو پھر یہ کہنا درست ہوتا کہ بھارت کے مسلمانوں نے سیکولر ازم کو اسلام پر ترجیح دیتے ہوئے اسے پسند کیا۔ بھارت کے مسلمانوں کو سیکولر ازم اور ہندو ازم میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مسئلہ درپیش ہے اور چوں کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ایک سیکولر ریاست میں ان کے ’’مذہبی تشخص‘‘ کی حفاظت کا زیادہ امکان ہے، اس لیے وہ بھارت کے سیکولر آئین کی حمایت کرتے ہیں۔ مگر خورشید ندیم نے ان تمام معاملات کو نظر انداز کرکے سیکولر ازم اور بھارتی مسلمانوں کے تعلق سے اسی طرح گفتگو کی ہے جیسے بھارتی مسلمانوں کو سیکولر ازم اسلام سے بھی زیادہ عزیز ہو۔
خورشید ندیم نے لکھا ہے۔ ’’ہمیں تو یہی بتایا گیا تھا کہ سیکولر ازم لادینیت ہے‘‘۔ یہ بات خورشید ندیم نے اس طرح لکھی ہے جیسے کسی نے انہیں سیکولر ازم کے حوالے سے دھوکا دے دیا ہو۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ سیکولر ازم اپنے اجمال میں لادینیت ہے اور اپنی تفصیل میں بھی۔ ظاہر ہے کہ خورشید ندیم اتنے بھولے ہیں کہ انہیں یہ نہ معلوم ہو کہ سیکولر ازم لادینیت ہے یا نہیں۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ سیکولر ازم لادینیت ہی ہے۔ بس وہ ایک ابہام ایک کنفیوژن پیدا کرنا اور مسلمانوں کے ایک طمانچہ رسید کرنا چاہتے ہیں۔ وہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مسلمان بڑے منافق ہیں۔ وہ ایک جگہ سیکولرازم کو ’’زہر‘‘ کہتے ہیں اور دوسری جگہ ’’آب حیات‘‘ حالاں کہ مسلمانوں کے لیے بھارت میں مسئلہ ’’زہر‘‘ اور آبِ حیات میں سے کسی ایک کے انتخاب کا نہیں بلکہ ’’کم زہر‘‘ اور ’’زیادہ زہر‘‘ میں سے کسی ایک کے انتخاب کا ہے۔ اصول ہے کہ مسلمان اپنے ’’مجبور بھائیوں‘‘ کی ’’مجبوری‘‘ کا بھی احترام کرتا ہے مگر غامدی صاحب کے شاگرد میں بھارت کے مسلمانوں کی ’’مجبوری‘‘ کے احترام کی صلاحیت بھی نہیں ہے۔
خورشید ندیم نے یہ بھی لکھا ہے کہ یا تو سیکولر ازم لادینیت نہیں یا پھر وہ مسلمانوں کا نجات دہندہ نہیں۔ جیسا کہ ظاہر ہے خورشید ندیم یہاں الفاظ اور جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ بدقسمتی سے انہیں یہ کھیل بھی نہیں آتا۔ مسلمانوں کا نجات دہندہ صرف ایک ہے۔ اسلام۔ صرف اسلام ہی میں مسلمانوں کی دنیا اور آخرت کی ’’کامیابی‘‘ ممکن ہے۔ چناں چہ وہ سیکولر ازم کو نجات دہندہ سمجھ ہی نہیں سکتے۔ بھارت کے مسلمان صرف سانس لینے اور زندہ رہنے کی آزادی مانگتے ہیں۔ اگر ’’ہندو ریاست‘‘ مسلمانوں کو یہ ’’نعمت‘‘ مہیا کردے تو مسلمانوں کو بھارت کے ’’ہندو ریاست‘‘ ہونے پر کوئی اعتراض نہ ہوگا اور وہ ’’سیکولر بھارت‘‘ پر ایک ’’ہندو بھارت‘‘ کو ترجیح دیں گے۔
خورشید ندیم زیر بحث کالم میں مزید لکھتے ہیں۔
’’مصطفیٰ نے پرنسٹن اور میشیگان یونیورسٹی کے ایک مشترکہ ریسرچ پروجیکٹ ’’عرب بیرومیٹر‘‘ کے ایک سروے کا ذکر کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب دنیا میں مذہب بیزاری روز افزوں ہے۔ بہت سرعت کے ساتھ تو نہیں لیکن لوگوں میں مذہب سے دوری بڑھ رہی ہے۔ 2013ء میں چھ عرب ممالک میں مذہب بیزار افراد کی تعداد آٹھ فی صد تھی۔ 2018ء میں یہ تیرہ فی صد ہوچکی۔ اس کے بالعموم دو اسباب بیان کیے جاتے ہیں۔ ایک ’’سیاسی اسلام‘‘ (Islamism) اور دوسرا سماجی اور ثقافتی معاملات میں مذہب کی غیر ضروری مداخلت۔ مصر میں اسلام ازم یا پولیٹیکل اسلام کے علم برداروں، عراق، ایران اور لبنان کے فرقہ پرستوں اور سوڈان میں اسلام پسندوں کے اقتدار نے مذہب بیزاری پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا‘‘۔
تجزیہ کیا جائے تو خورشید ندیم نے اس اقتباس میں بھی اسلام بالخصوص ’’سیاسی اسلام‘‘ سے عداوت کی صورت نکال لی ہے۔ بلاشبہ مسلم دنیا میں سیکولر طرزِ فکر کا دائرہ وسیع ہورہا ہے لیکن ’’خورشید ندیم کا خیال‘‘ یہ ہے کہ اس کا ایک سبب ’’سیاسی اسلام‘‘ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام صرف اسلام ہے۔ اسلام میں نہ کوئی ’’صوفی اسلام‘‘ ہے، نہ ’’روایتی اسلام‘‘ ہے، نہ ’’سیاسی اسلام‘‘ ہے۔ اسلام رسول اکرمؐ کے زمانے سے ’’جہادی‘‘ بھی ہے، ’’سیاسی‘‘ بھی ہے، ’’معاشی‘‘ بھی ہے، ’’قانونی‘‘ بھی ہے، ’’معاشرتی‘‘ بھی ہے۔ چناں چہ جو شخص اسلامی معاشرے میں اسلام کو ’’سیاسی اسلام‘‘ یا ’’غیر سیاسی‘‘ اسلام میں تقسیم کرتا ہے وہ مغرب کا ’’Paid‘‘ یا ’’Unpaid‘‘ ایجنٹ ہے۔ یہ خورشید ندیم کے کالم کے مذکورہ بالا اقتباس کے بارے میں پہلی بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پوری مسلم دنیا میں کہیں بھی خورشید ندیم کا ’’سیاسی اسلام‘‘ غالب ہی نہیں۔ چناں چہ سیاسی اسلام ’’مغرب بیزاری‘‘ بھی پیدا نہیں کرسکتا۔ اگر اسلامی تحریکیں دس بیس مسلم ملکوں میں برسراقتدار ہوتیں اور ان کے اقتدار کو دس پندرہ سال ہوگئے ہوتے تو غلط ہی سہی یہ کہا جاسکتا تھا کہ ان کے اقتدار نے لوگوں کو اسلام سے مایوس یا بیزار کرنے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ لیکن چوں کہ اسلام کو حقیقی معنوں میں کہیں سیاسی غلبہ حاصل ہی نہیں اس لیے خورشید ندیم کا یہ خیال سفید جھوٹ اور ایک بہتان کے سوا کچھ نہیں کہ بعض مسلم ممالک میں پیدا ہونے والی مذہب بیزاری سے سیاسی اسلام کا کوئی تعلق ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پھر مسلم دنیا میں سیکولر ازم یا مذہب بیزاری کیسے پھیل رہی ہے؟۔ اس کی ایک بہت ہی بڑی وجہ اکبر الٰہ آبادی نے ڈیڑھ سو سال قبل اور اقبال نے سو سال پہلے بتادی تھی۔ اکبر نے کہا تھا۔
یوں قتل سے بچّوں کہ وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
اقبال نے بات کو مزید وضاحت سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے۔
محسوس پہ بنا ہے علومِ جدید کی
اس دور میں ہے شیشہ عقائد کا پاش پاش
ان دونوں شعروں کا مفہوم عیاں ہے۔ جدید تعلیم مسلم معاشروں میں سیکولر فکر کو عام کرنے کا ایک بہت ہی بڑا ذریعہ ہے۔ یہ تعلیم انسان کو خدا سے بے نیاز کرتی ہے۔ رسالت کے ادارے اور وحی کے تصور سے لاتعلق بناتی ہے۔ انسان کو شعور بندگی سے آراستہ کرنے کے بجائے اس کے دماغ میں یہ بات ڈالتی ہے کہ وہ صرف سماجی، معاشی، حیاتیاتی یا سیاسی حیوان ہے۔ سیکولر ازم کا ایک مفہوم دنیا پرستی بھی ہے اور جدید تعلیم انسان کو آخرت پرستی نہیں صرف دنیا پرستی سیکھاتی ہے۔ چناں چہ مسلم معاشروں میں سیکولر یا مذہب بیزاری نہیں پھیلے گی تو کیا خدا پرستی پھیلے گی؟ اسی لیے اکبر ہوں یا اقبال یا مولانا مودودی سب نے علوم و فنون کو خدا مرکز، وحی مرکز یا اسلام مرکز بنانے پر بہت زور دیا ہے۔ لیکن مسلم معاشروں کے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں پڑھائے جانے والے علوم و فنون جتنے خدا مرکز، وحی مرکز یا اسلام مرکز ہیں وہ ہمیں معلوم ہے۔ ہم دس سیکولر علوم پڑھا کر اسلامیات کے مضمون کی کچھ معلومات طلبہ کے ذہن میں انڈیل کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے انہیں ’’مسلمان‘‘ بنانے کا ’’حق‘‘ ادا کردیا۔ بدقسمتی سے اسلامی تحریکوں کے تعلیمی اداروں تک میں وہی نصاب پڑھایا جارہا ہے جس کی الہیات سیکولر ہے۔ جس کا تصور علم سیکولر ہے، جس کا تصور انسان سیکولر ہے۔
خورشید ندیم نے یہ بھی لکھا ہے کہ ثقافتی اور سماجی معاملات میں اسلام کی ’’غیر ضروری مداخلت‘‘ نے بھی مسلم دنیا میں مذہب بیزاری پیدا کی ہے۔ اب تک تو خورشید ندیم کا غصہ ’’سیاسی اسلام‘‘ کے لیے تھا۔ دوسرے دائرے میں انہیں خود اسلام کی مداخلت بھی ’’غیر ضروری‘‘ نظر آنے لگی۔ وہ بھی ثقافتی و سماجی معاملات میں۔ ذرا خورشید ندیم بتائیں تو کس مسلم ملک میں ’’اسلامی فلمیں‘‘ بنائی جارہی ہیں۔ ’’اسلامی ڈرامے‘‘ تخلیق ہورہے ہیں۔ ’’اسلامی موسیقی‘‘ ایجاد کی جارہی ہے۔ ’’اسلامی افسانے‘‘ لکھے جارہے ہیں؟ ’’اسلامی ناول‘‘ تحریر ہورہے ہیں۔ ’’اسلامی شاعری‘‘ ہورہی ہے۔ شادی بیاہ کی ’’اسلامی تقریبات‘‘ ہورہی ہیں۔ ارے بھئی ان تمام دائروں میں سب کچھ سیکولر، مغربی یا دنیاوی معیارات کے مطابق ہو رہا ہے۔ مگر اس کے باوجود بھی خورشید ندیم کو اسلام ثقافتی اور سماجی معاملات میں ’’غیر ضروری مداخلت‘‘ کرتا نظر آرہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ غیر ضروری مداخلت ’’مذہب بیزاری‘‘ بھی پیدا کررہی ہے۔ یہاں تو غامدی صاحب کے شاگرد سفید جھوٹ سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔
خورشید ندیم نے اپنے کالم میں اسلام اور مسلمانوں پر ’’مزید مہربانیاں‘‘ فرمائی ہیں، لکھتے ہیں۔
’’اگر اقتدار مسلمانوں کے پاس ہوگا تو یہ مذہب کا مطالبہ ہے کہ وہ مذہب کی اجتماعی تعلیمات کو نافذ کریں۔ اس مقدمے کو مان لیا جائے تو پھر سوال یہ پید اہوتا ہے کہ ایک قومی ریاست جس ریاستی ڈھانچے کو اختیار کرتی ہے، اس میں ریاست کے شہریوں کے مابین کسی امتیاز کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ دور جدید کی مسلم ریاستیں دراصل قومی ریاستیں ہیں۔ اب قومی ریاست اور اسلامی ریاست، جیسے سیاسی اسلام اسے پیش کرتا ہے کے تصورات میں تطبیق کیسے ممکن ہے؟‘‘
آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہاں خورشید ندیم نے اسلام کو قومی ریاست سے بھڑا دیا ہے۔ وہ فرمارہے ہیں کہ جہاں اسلام ہوگا وہاں قومی ریاست نہیں ہوگی اور جہاں قومی ریاست ہوگی وہاں اسلام کیسے ہوگا۔ کیوں کہ اسلامی ریاست سیکولر ریاست یا قومی ریاست کی طرح شمولیتی یا Inclusive نہیں ہوتی غیر شمولیتی یا Exclusive ہوتی ہے۔ بھارت ’’قومی ریاست‘‘ بھی ہے اور ’’سیکولر ریاست‘‘ بھی مگر اس کے ’’امتیازی‘‘ ہونے کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی مجموعی آبادی کا 20 فی صد ہے مگر لوگ سبھا، راجیہ سبھا اور ریاستی یا صوبائی اسمبلیوں میں مسلمانوں کی نمائندگی دو فی صد سے بھی کم ہے۔ فرانس ایک Ideal قومی، سیکولر اور لبرل ریاست ہے۔ فرانس میں مسلمانوں کی آبادی 10 فی صد ہے مگر بلدیاتی اداروں کی سطح سے ’’قومی سطح‘‘ تک مسلمانوں کی نمائندگی صفر فی صد ہے۔ چناں چہ اگر کسی مسلم، قومی ریاست میں کسی غیر مسلم کو صرف وزیراعظم یا صدر نہ بنایا جاسکتا ہو یہ کوئی بہت بڑی بات تو نہیں۔