نقطہ نظر

226

قرعہ اندازی کے ذریعے روزگار
کی فراہمی درست نہیں
ہمارے یہاں ہر اقتدار میں آنے والا عقل کُل اور ملک کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتا ہے، قواعد و ضوابط کی بات کرتا ہے لیکن وہ کرتا وہی ہے جو اُس کا دل چاہتا ہے۔ سرکاری ملازمتوں پر نواز شریف نے بھرتیوں پر پابندی لگادی، انہوں نے اپنے ادوار میں یہ عمل جاری رکھی امید تھی کہ تبدیلی سرکار ملازمتوں کی فراہمی کعے عمل میں آسانی پیدا کرے گی اور تمام سرکاری و نیم سرکاری ادوار میں خالی آسامیوں پر اداروں کو ان کے اپنے رولز کے مطابق بھرتیاں کرنے کا اختیار بحال کرے گی۔ پرچی بھتا اور چمک کے ساتھ سفارش کو مکمل طور پر ختم کردے گی۔ اور ملازمت کی فراہمی میں آسامیوں کے مطابق اور اُس کی تعلیمی قابلیت کے مساوی اور Requirment کو پورا کرنے والے کو بھرتی کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ اس دفتر میں ملک و قوم کو بے روزگار نوجوان اپنے کوائف کے ساتھ درخواستیں ذاتی طور پر بھی اور بذریعہ ڈاک بھی بھیج سکتے ہیں یہاں درخواست کی جانچ پڑتال کے بعد اس کو رجسٹر کیا جائے گا اور اس ڈیٹا کے مطابق جس سرکاری و نیم سرکاری ادارے میں درخواست پر کارروائی ہوسکے اس کو ارسال کردیا جائے گا۔ سرکاری و نیم سرکاری ملازمتوں کی فراہمی میں مکمل طور پر سیاسی عمل دخل ختم کردیا جائے اور میرٹ پر امیدوار کا انتخاب کیا جائے تا کہ اداروں کو بہترین افرادی، تعلیمی قوت حاصل ہوسکے اور سرکاری و نیم سرکاری ادارہ ترقی پاسکے۔ بغیر پرچی، بھتے، سفارش، چمک کے انتخاب ہو ان کو نوکریاں ملیں اور ان کو یہ پتا ہو کہ تبدیلی سرکار نے کچھ کام کیا۔ اس وقت تبدیلی سرکار نے یہ اشارہ دیا ہے کہ ملازمت قرعہ اندازی کے ذریعے فراہم کی جائے گی جو میرٹ کے برخلاف طریقہ کار ہے۔ اس عمل سے بہت زیادہ مسائل آئیں گے، لہٰذا تبدیلی سرکار تین کام کرلے (1) تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں سے فی الفور خالی آسامیوں پر سے پابندی کا خاتمہ کرے۔ (2) تمام وفاقی سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو قواعد و ضوابط کی روشنی میں مکمل طور پر بھرتی کا اختیار بحال کیا جائے۔ (3) ملازمتوں میں سیاسی مداخلت مکمل طور پر ختم کردی جائے۔ بے روزگاروں اور ایمپلائز کے درمیان رابطوں کے لیے ملک گیر سطح پر ایمپلائمنٹ ایکسچینج بحال کریں۔ ملازمت کی فراہمی میں قرعہ اندازی نہیں میرٹ کا خیال رکھیں۔
صغیر علی صدیقی
نارتھ ناظم آباد بلاکJ کی ابتر صورت حال
اس وقت پورا کراچی ہی مسائل میں گھرا ہوا ہے مگر نارتھ ناظم آباد بلاک J کی سڑکوں کا حال بہت زیادہ خراب ہے۔ جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں، گٹر ابل کر ان گڑھوں میں گندا پانی بھر جاتا ہے، جن سے بیماریوں کا الگ خطرہ ہے۔ اس طرف توجہ کی اشد ضرورت ہے۔
ماریہ حجاب، بلاکJ
مہنگائی پر قابو پایا جائے
جس تیزی سے اشیا خورونوش کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں بعید نہیں کہ کچھ دنوں میں عوام کی پہنچ سے دور ہوجائیں اس کے لیے حکمران طبقے کو خصوصاً مہنگائی کے مسئلہ پر توجہ دینی چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ افراط زر پر بھی قابو پانا چاہیے، اگر آج آپ نے اس مسئلے پر قابو نہ پایا تو آگے عوام آپ سے مایوس ہوجائیں گے اور اگر آپ نے آپ نے وعدہ وفا نہیں کیا تو آئندہ کوئی آپ پر اعتبار نہیں کرے گا۔ آپ سے گزارش ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
فوزیہ عباس، نارتھ ناظم آباد بلاک T
آئین شکنی پر سزا
حکومت نے آئین شکنی کرنے والوں کو سزا دینے کا جو قانون حال ہی میں پاس کیا ہے یہ ایک خوش آئند بات ہے مگر حکومت وقت اور ارباب اختیار کو خود بھی اس قانون کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اپنی اسمبلیوں سے ایسے قوانین پاس کروانے سے باز رہنا چاہیے جو دین اسلام اور شریعت کے خلاف ہوں اور اسی طرح پاکستان کے اسلامی جمہوری آئین میں موجود ان تمام قوانین میں کسی بھی قسم کی ترامیم یا اضافے سے متعلق قانون سازی سے بھی گریز کرنا چاہیے جو عقیدہ ختم نبوت یا توہین رسالت سے تعلق رکھتے ہوں۔ کیوں کہ پاکستان کا آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ پاکستان کی قانون ساز اسمبلیاں کوئی ایسا قانون منظور نہیں کرسکتیں جو دین اسلام کے عقائدہ نظریات اور بنیادی تصورات سے متصادم ہو۔
مسز بینا حسین خالدی ایڈووکیٹ
صادق آباد، رحیم یار خان