تعلیم، مسلمان اور پاکستان

328

محمد فیصل
نسل انسانی جتنی پرانی ہے تعلیم بھی تقریباً اتنی ہی پرانی ہے۔ اصل میں انسان اپنی تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت کی بنا ہی پر دیگر مخلوقات سے مختلف سمجھا جاتا ہے۔ چناں چہ انسان کو دنیا میں حاصل ہونے والی سب سے قیمتی اور انمول چیز ’’تعلیم‘‘ ہی ہے۔ مگر ذرا غور کیجیے کہ آخر تعلیم میں ایسی کون سی خوبی ہے کہ جس کی وجہ سے وہ دنیا کی سب سے ’’قیمتی‘‘ اور ’’انمول‘‘ شے قرار دی جارہی ہے۔ معاشیات کا اصول ہے کہ ہر وہ شے جو انسان کی کسی ضرورت کو پورا کرتی ہے وہ اپنے اندر ایک خاص ’’افادہ‘‘ رکھتی ہے۔ چناں چہ بالکل اسی طرح تعلیم کے ذریعے سے انسان کو جو مقاصد حاصل ہوتے ہیں وہ اپنے نتائج کے لحاظ سے انسان کے لیے دیگر چیزوں کے مقابلے میں ’’قیمتی ترین‘‘ اور ’’انمول‘‘ ہوتے ہیں۔چوں کہ تعلیم کے ذریعے انسان کو آگاہی حاصل ہوتی ہے جس کے ذریعے سے وہ باشعور ہوتا ہے اور کامیابی کی منزلیں حاصل کرلیتا ہے۔ اسی لیے تعلیم کے عنوان میں سب سے زیادہ مقاصد تعلیم پر بحث کی گئی ہے اور یہ کبھی نہ ختم ہونے والا مضمون ہے۔ جس طرح شیکسپیئر پر شائع ہونے والی شرحوں کی تعداد کی کوئی انتہا نہیں۔ اسی طرح تعلیم کے جو مقاصد پیش کیے جاسکتے ہیں ان کی تعداد کا بھی شمار نہیں۔
ایک بڑی عمدہ بات کہی جاتی ہے کہ انسانی تہذیب کی جڑیں دنیا کے بڑے دریائوں کی وادیوں میں ملتی ہیں۔ چناں چہ اس حقیقت کی زیادہ مشہور مثالیں وادی نیل، دجلہ و فرات اور سندھ کی وادی ہیں۔ ان تینوں علاقوں میں کھدائی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ و ترقی یافتہ تہذیبوں کا پتا چلتا ہے۔ اس طرح تعلیم کا تہذیب کے ساتھ گہرا تعلق ثابت ہوتا ہے۔ ایک لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تہذیب، دختر تعلیم ہے کیوں کہ کسی تہذیب کا وجود انسانی تجربے کی لگاتار ترقی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ چناں چہ کسی بھی تہذیب کو قائم اور شاداب رکھنا ہو تو تعلیم میں وسعت اور ترقی ہونی چاہیے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس دنیا میں امامت و قیادت کا مدار آخر کس چیز پر ہے؟ کیا چیز ہے جس کی بنا پر کبھی مصر امام بنتا ہے اور دنیا اس کے پیچھے چلتی ہے، کبھی بابل امام بنتا ہے اور دنیا اس کی پیروی کرتی ہے، کبھی یونان کے ہاتھوں میں دنیا کی امامت آجاتی ہے اور دنیا اس کا اتباع کرتی ہے، کبھی اسلام قبول کرنے والی اقوام امام بنتی ہیں اور پوری دنیا ان کے نقش قدم پر ہو لیتی ہے، اور کبھی یورپ امام بنتا ہے اور دنیا اس کی متبع بن جاتی ہے؟ پھر وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے امامت آج ایک کو ملتی ہے، کل اس سے چھن کر دوسرے کی طرف چلی جاتی ہے؟ کیا یہ محض ایک بے ضابطہ اتفاقی امر ہے یا اس کا کوئی ضابطہ بھی مقرر ہے؟ اس بات پر جتنا بھی غور کیاجائے اس کا جواب یہی ملتا ہے کہ ہاں اس کا ضابطہ ہے اور وہ ضابطہ یہ ہے کہ امامت کا دامن ہمیشہ تعلیم سے وابستہ رہے گا۔ انسان کو بحیثیت نوع کے زمین کی خلافت ملی ہی علم کی وجہ سے ہے۔ اسے سمع، بصر اور فوادتیں چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو دوسری مخلوقات ارضی کو یاد تو نہیں دی گئیں یا اس کی بہ نسبت کم تر دی گئی ہیں۔ چناں چہ وہ اس بات کا اہل ہوا کہ دوسری مخلوقات پر خدا کا خلیفہ بنایا جائے۔ اب اس نوع میں سے جو طبقہ یا گروہ تعلیم کی صفت میں دوسرے طبقوں یا گروہوں سے آگے بڑھ جائے گا وہ اسی طرح ان سب کا امام بنے گا جس طرح انسان من حیث النوع دوسری انواع پر اسی چیز کی وجہ سے خلیفہ بننے کا اہل ہوا ہے۔
جہاں تک تعلیم کے مقاصد کا تعلق ہے اس بارے میں کچھ افراد کے نزدیک تعلیم کا مقصد علم حاصل کرنا ہے، چناں چہ وہ کہتے ہیں کہ تعلیم بالکل غیر جانب دار ہونی چاہیے تا کہ وہ زندگی کے مسائل، معاملات اور حقائق کا بالکل ایک جیسا معروضی مطالعہ کریں اور آزادانہ نتائج اخذ کریں۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے کیوں کہ انسان صرف آنکھ ہی نہیں بلکہ ایک دماغ بھی رکھتا ہے جس کا اپنا ایک نقطہ نظر ہوتا ہے اور اسی نقطہ نظر کی بدولت انسان اپنی زندگی کا ایک مقصد رکھتا ہے۔ مسائل سے متعلق سوچنے کا ایک طرز رکھتا ہے اور وہ جو کچھ بھی دیکھتا ہے، جو کچھ بھی سنتا ہے، جو کچھ بھی معلومات حاصل کرتا ہے، اور وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اسے اپنی فکر کے سانچے میں ڈھالتا جاتا ہے جو اس کے اندر بنیادی طور پر موجود ہوتی ہے۔ پھر اسی فکر کی بنیاد پر اس کا وہ نظام زندگی قائم ہوتا ہے جسے ہم اس کا کلچر کہتے ہیں۔
انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک تمام مسلمان ملکوں میں اس وقت تعلیم، اخلاقی و مادی طور پر زبوں حالی کا شکار نظر آتی ہے جس کی بنیادی وجہ ان ملکوں میں رائج دو طرح کے نظام تعلیم ہیں۔ ایک نظام تعلیم خالص مغربی ذہن و فکر رکھنے والے اور مغربی تہذیب و تمدن کے رنگ میں رنگے ہوئے آدمی تیار کررہا ہے اور اسی کے تیار کیے ہوئے لوگ مسلم ممالک کی حکومتوں کے نظام چلا رہے ہیں۔ انہی کے ہاتھوں میں معیشت کا سارا کاروبار ہے، وہی سیاست کی باگیں تھامے ہوئے ہیں اور وہی تمدن اور تہذیب کی صورت گری کررہے ہیں مگر یہ لوگ دین کے علم و فہم سے عاری اور مغربیت سے مرعوب اور مغلوب ہیں، اس لیے یہ دنیا بھر میں اُمت مسلمہ کی گاڑی کو روز بروز نہایت تیزی کے ساتھ اسلام کی مخالف سمت میں لیے جارہے ہیں۔
بقول اقبال:
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
عالم اسلام بشمول پاکستان میں دوسرا نظام تعلیم علوم دینی کے علما تیار کررہا ہے جو دنیوی علوم سے بالعموم ناواقف ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے محض مذہبی شعبہ حیات کی محافظت کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ یہ لوگ دُنیا میں کہیں بھی ان قابلیتوں اور ان اوصاف سے متصف نہیں ہیں جن سے یہ زندگی کی گاڑی کے ڈرائیور بن سکیں۔ ہر جگہ یہ صرف ایک بریک کا کام انجام دے رہے ہیں جس کا کام اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ مقدم الذکر گروہ جس تیزی کے ساتھ امت کی گاڑی کو مخالف سمت میں لے جانا چاہتا ہے اس میں رکاوٹ پیدا کرے اور رفتار کو سست کرتا رہے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر مسلمان ملک میں یہ بریک روز بروز کمزور ہوتا چلا جارہا ہے، بلکہ بعض ملکوں میں تو بدمست ڈرائیور بریک توڑ چکے ہیں اور الحاد و فجور کے راستے پر بے تحاشا اپنی قوم کو دوڑائے لیے جارہے ہیں۔اس صورت حال کی عکاسی اقبال نے کچھ اس طرح کی ہے:
نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق اُن کو
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور
لہٰذا قبل اس کے باقی مسلمان ملکوں میں وہ وقت آئے کہ ہر جگہ یہ بریک ٹوٹ چکا ہو، ہمیں ایک ایسا نظام تعلیم قائم کرنے کی فکر کرنی چاہیے جس سے بیک وقت دین و دُنیا کے عالم تیار ہوں جس سے نکلنے والے بریک کی جگہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کی گاڑی کے ڈرائیور کی جگہ سنبھالنے کے قابل ہوں اور اپنے اخلاق و کردار کے اعتبار سے بھی اور ذہنی صلاحیتوں کے اعتبار سے بھی مغربی طرزِ کے نظام تعلیم سے فارغ ہونے والوں کی بہ نسبت فائق تر ہوں۔ اس وقت مختلف مسلم ممالک بالخصوص پاکستان میں اس طرح کی تجاویز دی جارہی ہیں کہ مسلمانوں کے نظام تعلیم میں بنیادی تغیرات کیے جائیں اور ایسے جدید طرز پر تعلیمی نصاب تیار کیے جائیں جو مسلم نوجوانوں کو ان کے اصلی مقصد حیات سے بالکل ناآشنا کردیں اور انہیں محض مغربی طرز پر زندگی کی تعبیر پر راضی رکھا جاسکے۔ جب کہ اصل ضرورت ایک موثر، جامع، اسلامی نظام تعلیم کی ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ضرورت کو مسلم دنیا کا کوئی بھی تعلیمی ادارہ پورا نہیں کررہا۔ عالم اسلام کے تمام اہل فکر پریشان ہیں کہ اگر ایسا ایک نظام تعلیم قائم نہیں ہوا تو امت مسلمہ کو دین اور اخلاق کی تباہی سے کیسے بچایا جاسکے گا۔ اس طرح کا نظام تعلیم بنانے کے لیے جن وسائل کی ضرورت ہے وہ صرف حکومتیں ہی فراہم کرسکتی ہیں اور مسلم ممالک کی حکومتیں جیسے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں ان کا حال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
معروف ماہر تعلیم ڈی ایس گورڈن کی رائے کے مطابق ’’انسان کا بچہ اپنے پورے دور انحصار میں کردار کے بعض نمونے ان لوگوں سے سیکھتا ہے جنہیں وہ دیکھتا ہے اور ان کی نقل کرتا ہے۔ انسانی بچہ جن لوگوں کو دیکھتا ہے اور نقل اُتارتا ہے وہ ان لوگوں سے اپنے دور انحصار میں مخصوص کردار سیکھتا ہے۔ یہ اس کا سماجی ورثہ ہے‘‘۔ اس رائے کی اہمیت یہ ہے کہ گورڈن نے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ’’گھر‘‘ اور ’’خاندان‘‘ در حقیقت کسی انسان کی سب سے پہلی درسگاہ ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے والدین پر بہت ہی بھاری ذمے داری عاید ہوتی ہے۔
مندرجہ بالا پورا پیراگراف صرف جملے ہائے معترضہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اس کی غرض و غایت یہ ہے کہ ہم قارئین تک یہ بات پہچانا چاہتے ہیں کہ انسان کے لیے جس طرح کسی خارجی تعلیمی ادارے کی ذمے داری ہوتی ہے بالکل اسی طرح انسان کے لیے پہلی اور بنیادی داخلی درسگاہ اس کا اپنا ’’گھر‘‘ اور ’’خاندان‘‘ ہوتا ہے۔
لہٰذا اس پہلی اور بنیادی ’’درسگاہ‘‘ کا ماحول اگر اخلاقی و دینی اور علمی طور پر کمزور یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا تو وہ معاشرے میں کمزور اور شکستہ حال انسانوں کی تشکیل کا نہ صرف ذمے دار ہوگا بلکہ ایک ایسے معاشرے کی بھی تشکیل کا باعث بنے گا کہ جس کے افراد آگہی اور شعور سے بالکل ہی نا بلد ہوں گے۔ہم تاریخ کے ایسے کئی اہم اور نامور لوگوں کے بارے میں پڑھ چکے ہیں جن کی ابتدائی تعلیم ان کے گھر پر اور خود ان کے والدین یا سرپرستوں کے ہاتھوں میں ہوئی ہے۔ علامہ اقبال اپنی والدہ مرحومہ کی یاد میں اس بات کا اس طرح اعتراف کرتے ہیں۔
تربیت سے تری میں انجم کا ہم قسمت ہوا
گھر میرے اجداد کا سرمایہ عزت ہوا