حکومت کے دن کم رہ گئے ہیں، سراج الحق

64

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے 14 مہینے ناکامیوں کی ایک داستان ہے اور حکمرانوں نے ہر وہ کام کیا جس کا انتخابات سے پہلے نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بٹ خیلہ ملاکنڈ میں عزم نوکنونشن اور نومنتخب امراءکی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سینٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہر وہ کام کیا جس کا انتخابات سے پہلے نہ کرنے کا اعلان کیا تھا،حکومت نےاپنے رویے سےعوام کے ساتھ ساتھ اپنے کارکنان کو بھی مایو س کردیا ،حکومت کو مینڈیٹ تبدیلی کے لیے ملی تھی لیکن تبدیلی آرہی ہے تو روپے کی قدر کمی، معیشت تباہ ، خارجہ پالیسی ناکام ، بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہورہاہے ۔

سینٹر سراج الحق نے کہاکہ عرب ممالک نے پاکستان کے بجائے ہندوستان سے دوستی بڑھا لی، حکومت کے دن کم رہ گئے ہیں،موجودہ حکومت بھی سابقہ پی پی ، مسلم لیگ اور پرویز مشرف کا تسلسل ہے ،موجودہ دور حکومت میں ترقیاتی کام ٹھپ ہوچکا ہے،ملک ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جارہا ہے،لوگوں کو روز گار ،تعلیم اور صحت کی سہولتیں دستیاب نہیں،ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے والے اپنے وعدوں سے پھر رہے ہیں،اب تک دس لاکھ سے زیادہ لوگ بے روز گار ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا،ہر طرف مایوسی اور پریشانی کے بادل چھائے ہوئے ہیں،جن لوگوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا اور سپورٹ کیا وہ سب پریشان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان مودی سے مطالبہ کر رہا ہے کہ کشمیر میں انصاف کریں جس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم نے مودی کو کشمیر میں منصف تسلیم کرلیا ہے ۔ یوم اقبال پر کرتارپور کا افتتاح ہورہاتھا اور بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے جگہ مندر کی تعمیر کا فیصلہ دے دیا ۔

سراج الحق نے کہا کہ ہرطرف سے مسلمان محاصرے میں ہے اور امت مسلمہ کے خلاف عالم کفر متحد ہوکر سازشیں کررہے ہیں جب کہ امت مسلمہ کے حکمران بھی ان کے ساتھ شریک ہیں،کشمیر میں97 دنوں سے کرفیو ہے کشمیر ی عوام اپنے پیاروں کے لاشیں اپنے گھروں میں دفن کرنے پر مجبور ہیں،خوراک اور دوائیوں کا کوئی بندوبست نہیں ہے لیکن دنیا نے اپنے آنکھیں بند کر رکھے ہیں جب کہ امت مسلمہ کے حکمران بہرے ہوچکے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ ہندوستان نے اپنے نقشے میں کشمیر اور گلگت شامل کر لیے ہیں،ہندوستانی فوج کہہ رہی ہے کہ کشمیر میں ہمارے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جماعت اسلامی ہے اس لیے کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی عائد کردی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم کشمیر، فلسطین کا سوداکرنے ، پاکستان میں اسلامی نظام کے سوا دوسرے نظام لانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔