اندرون سندھ: مختلف حادثات وو اقعات مین 10 افراد جاں بحق

21

 

حیدر آباد، کھڈرو، بدین، ہنگورجہ، لاڑکانہ، سکھر، شکارپور (اسٹاف رپورٹر، نمائندگان جسارت) حیدر آباد میں مختلف حادثات وواقعات میں دو افراد ہلاک ایک زخمی بدین بس اسٹاف کے قریب کوسڑ سے گر کر ایک شخص ہلاک ہوگیا جس کی لاش کو سول اسپتال پہنچایااس کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی، سینٹر ل جیل حیدرآباد قید ریاض حسین نامی قیدی انتقال کرگیا جبکہ ٹنڈو جام تھانے کا اہلکاراظہار جتوئی زخمی حالت میں سول اسپتال پہنچا جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ مبینہ پولیس مقابلے میں ٹنڈو جام کی حدود میں زخمی ہوا ہے۔ سانگھڑ نوابشاہ روڈ پر حادثات میں 2 افراد جاں بحق،ایک زخمی۔ موٹر سائیکل سوار محمد شریف کوش کھڈرو اسپتال جارہا تھا کہ سامنے سے آتی ہوئی تیز رفتار کوچ کی ٹکر سے اباڑو کے رہائشی 55 سالہ موٹر سائیکل محمد کوش شدید زخمی ہوگئے جسے نازک حالت میں نواب شاہ لے جایا جارہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گیا،جبکہ دوسرے زخمی قطب الدین عرف بھورو کوش نواب شاہ اسپتال میں داخل ہیں جبکہ دیھ 20 جمڑائو کے معروف زمیندار، کھڈرو تھانے کے کمپیوٹر آپریٹر حاکم بروہی کے والد 56 سالہ رئیس محمد رمضان بروہی کھڈرو سے نواب شاہ جارہے تھے کہ گپچانی بس اسٹاپ کے قریب تیز رفتار کار کی ٹکر سے شدید زخمی ہوگئے، جنہیں شدید زخمی حالت میں نوابشاہ لے جایا گیا لیکن جانبر نہ ہوسکے اور مالک حقیقی سے جاملے۔ بدین، ہنگورجہ ٹنڈو باگو، بدین روڈ پر تیز رفتار ڈمپر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، ایک موٹر سائیکل سوار جاں بحق، ایک زخمی ہوگیا۔ بدین شہر کے قریب ٹنڈوباگو روڈ پر سامنے سے آنے والے تیز رفتار ڈمپر نے سامنے سے آنے والے موٹر سائیکل کو ٹکر مار کر دو موٹر سائیکل سواروں کو کچل دیا، موٹر سائیکل سوار سولہ سالا زرگر محلہ بدین کے مکین فرحان نثار راہموں موقع پر جاں بحق ہوگیا، جبکہ دوسرے ساتھی موٹر سائیکل سوار اتفاق کالونی کے مکین شاہ حسین آرائیں کو تشویش ناک حالت میں سول اسپتال بدین منتقل کیا گیا ہے، جہاں پر طبی امداد کے بعد حیدر آباد منتقل کردیا گیا، جاں بحق ہونے والے اور زخمی نوجوان کا تعلق بدین شہر سے ہے۔ پولیس نے موقعہ پر پہنچ کر ڈمپر اور ڈرائیور اکبر پٹھان کو گرفتار کرکے ڈمپر تحویل میں لے لیا ہے، مزید تحقیقات جاری ہے۔ ہنگورجہ قومی شاہۃراہ پر تیز رفتار مسافر کوچ اور ٹرک کے درمیان تصام، کوچ ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق، 3 خواتین سمیت 17 مسافر شدید زخمی، زخمیوں کو ہنگورجہ، گمبٹ اور خیرپور اسپتال منتقل کردیا گیا۔ حادثے کا مقدمہ درج نہیں ہوسکا۔ ہنگورجہ قومی شاہراہ اٹک پیٹرول پمپ کے سامنے کراچی سے سوات جانے والی تیز رفتار گلاب کوچ آگے جانے والی ٹرک سے اورٹیک کرنے کے دوران ٹکرا گئی۔ جس کے نتیجے میں کوچ ڈرائیور 30 سالاطاہر شاہ موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ جبکہ 3 خواتین مسمات نگیناں، مسمات عائشہ، مسمات وحیدہ، محمد رحیم، سعید احمد، حسن شاہ، سردار کریم، ساجد علی، جہانزیب، محمد فہیم، غلام محمد، لیاقت علی، افضل خان، عیدل دائود، امیر علی، جمیل احمد، محمد علی سمیت 17 مسافر شدید زخمی ہوگئے۔ ہنگورجہ رسول پولیس اور موٹر وے پولیس نے پہنچ کر زخمیوں کو ہنگورجہ، خیرپور اور گمبٹ اسپتال میں منتقل کردیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق فوت ہونے والے ڈرائیور اور تمام زخمیوں کا تعلق سوات شہر سے ہے۔ لاڑکانہ نوڈیرو کے علاقے گاؤں مٹھو میں تھانہ کیٹی ممتاز کی حد میں ایک روز قبل بھٹو اور کھوڑو قبیلے کے درمیان جاری زمینی تنازعہ پر مسلح افراد نے فائرنگ کرکے نوجوان ارشاد کھوڑو کو قتل کردیا، اطلاع پر حد کے تھانہ کی پولیس نے پہنچ کر مقتول کی لاش نوڈیرو اسپتال منتقل کی، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کی گئی جبکہ گزشتہ روز ورثا نے مقتول کی لاش ایس ایس پی چوک پر رکھ پر ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کرکے دھرنا دیا، جہاں دھرنے کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہوکر رہ گئی۔ اس موقع پر مقتول کے والد ہدایت اللہ کھوڑو اور دیگر ورثا کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان کو پولیس پوسٹ کے قریب گولیوں سے چھلنی کرکے بے دردی سے قتل کردیا جبکہ پولیس واقعے میں ملوث ملزمان کو تاحال گرفتار نہ کرسکی ہے، جس کے باعث علاقہ غیر بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو اور کھوڑو قبیلے کے درمیان زمینی تنازعے پر اس وقت تک 10 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، لیکن پولیس کارروائی کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے آئی جی سندھ و دیگر بالا حکام سے اپیل کی کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔ دوسری جانب ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود احمد بنگش نے مقتول کے ورثا کو اپنے دفتر میں طلب کرکے مذاکرات کیے، جہاں انہوں نے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کروائی، جس کے بعد دھرنا ختم کیا گیا اور ورثا لاش لے کر اپنے گاؤں روانہ ہوگئے۔ سکھر کے علاقے گڈانی پھاٹک کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق ہوگئے، ملزمان فرار، لاشیں سول اسپتال منتقل کردی گئیں۔ مسلح افراد نے گڈانی برادری سے تعلق رکھنے والے انور اور شوکت گڈانی پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں دونوں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، واقعے کی اطلاع سی سیکشن تھانے کو دی گئی۔ مقتول کے بھائی عطا گڈانی کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے انور گڈانی کا بیٹا اکبر گڈانی چند روز قبل مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوچکا ہے، جس کا مقدمہ تھانہ سی سیکشن پر درج ہے، لیکن پولیس نے کسی قسم کی کارروائی نہیں کی اور ملزمان آزاد گھومتے رہے۔ پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم اور دیگر قانونی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ پرانی خاندانی دشمنی کا شاخسانہ ہے، جس کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، قانونی کارروائی کے بعد مقتولین کی لاشیں ورثا کے حوالے کی گئیں، میتیں گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔ شکارپور کے گائوں بھرکن کے قریب نو مولود بچے کی لاش برآمد، نو مولود بچے کی لاش کی اطلاع پولیس کو دی گئی، پولیس نے زحمت کیے بغیر گائوں والوں کو لاش دفنانے کا کہہ دیا، بغیر قانونی کارروائی کے اور پوسٹ مارٹم کے لاش کی تدفین کردی گئی۔